Sufinama

اے دل بگیر دامن سلطان اولیا

شاہ نیاز احمد بریلوی

اے دل بگیر دامن سلطان اولیا

شاہ نیاز احمد بریلوی

MORE BYشاہ نیاز احمد بریلوی

    اے دل بگیر دامن سلطان اولیا

    یعنی حسین ابن علی جان اولیا

    اے دل اولیا کے بادشاہ کا دامن تھام

    یعنی اولیا کی جان حسین ابن علی کا

    ذوقے دگر بہ جام شہادت ازو رسید

    شوقے دگر بہ مستیٔ عرفان اولیا

    شہادت کے جام میں ان کی وجہ سے ایک دوسری لذت پیدا ہوگئی

    (اور) اولیا کے عرفان کی سرمستی میں ایک دوسرا شوق

    آئینۂ جمال الٰہیست صورتش

    زاں رو شدست قبلۂ ایمان اولیا

    چوں کہ وہ نبی کے مقام کے وارث ہیں

    (اس لئے) انبیا کا فخربھی ہیں اور اولیا کی شان بھی

    چوں صاحب مقام نبی و علیست او

    ہم فخر اولیا شد و ہم شان اولیا

    ان کی صورت اللہ پاک کے جمال کا آئینہ ہے

    اس وجہ سے وہ اولیا کے ایمان کا قبلہ ہیں

    تا کرد صرف حق سر و سامان ہستیش

    گوئی سبق ربودہ ز میدان اولیا

    جب انہوں نے اللہ پاک کی راہ میں اپنی زندگی کا سرمایہ لٹا دیا

    تو وہ اولیا کے میدان سے سبقت کی گیند لے گئے

    روئے نکوش مطلع صبح سعادتست

    سیمائے اوست شمع شبستان اولیا

    ان کا حسین چہرہ سعادت کی صبح کے طلوع ہونے کا مقام ہے

    ان کی پیشانی اولیا کے شبستان کا (روشن) چراغ ہے

    دارد نیازؔ حسن خود امید بہ حسین

    با اولیاست حشر محبان اولیا

    نیازؔ حسن نیت کے ساتھ اپنے بہتر انجام کی امید رکھتا ہے

    اولیا کے ساتھ اولیا کے دوستوں کا انجام ہوتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غوث محمد ناصر

    غوث محمد ناصر

    فرید ایاز

    فرید ایاز

    فرید ایاز

    فرید ایاز

    صابری برادران

    صابری برادران

    طاہر علی اور ماہر علی

    طاہر علی اور ماہر علی

    فرید ایاز

    فرید ایاز

    مأخذ :
    • کتاب : دیوان نیاز بے نیاز (Pg. 35)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY