اے دل و دیدہ ہر دو خانۂ تو
سر من خاک آستانۂ تو
یہ دل اور یہ آنکھیں تیرا ہی گھر ہیں،
میرا سر تیری چوکھٹ کی خاک ہے۔
کاش بر من فتد نہ بر توسن
دم بدم زخم تازیانۂ تو
کاش تیرے کوڑے کا زخم
اس گھوڑے کے بجائے مجھے لگا ہوتا۔
ہر کسے خوش بگوشۂ طربے
من و غم ہائے بے کرانۂ تو
ہر آدمی خوشی کی محفل میں خوش ہے،
اور میں تیرا بے انتہا غم اٹھائے پڑا ہوں۔
ہر طرف ناوک از چہ می فگنی
دل ما بس بود نشانۂ تو
اے تیر انداز! تم چاروں طرف تیر کیوں چلا رہے ہو؟
میرے دل ہی کو تیرے نشانے کے لیے کافی تھا۔
ہمہ تن گوش می شوم از شوق
ہر کجا می رود فسانۂ تو
تیری کہانی جہاں جہاں جاتی ہے،
میں اسے پورے دھیان اور شوق سے سنتا ہوں۔
بہر نا کشتنم بہانہ مجو
کہ مرا میکشد بہانۂ تو
مجھے قتل نہ کرنے کا بہانہ مت ڈھونڈ،
مجھے تیرا یہی بہانہ مار ڈالے گا۔
جامیاؔ بوئے درد می آید
از غزل ہائے عاشقانۂ تو
اے جامیؔ! تیری عشقیہ غزلوں سے
درد کی خوشبو آ رہی ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.