اے ترک شوخ ایں ہمہ ناز و عتاب چیست
با دل شکستگان ستم بے حساب چیست
اے شوخ ترک! یہ تمام ادائیں اور یہ قہر کس لیے ہے
ٹوٹے دلوں پر یہ بے حساب ستم کس لیے ہے
گفتی شبے بہ خواب تو آیم ولے چہ سود
چوں من بہ عمر خویش نہ دیدم کہ خواب چیست
ایک رات تو نے خواب میں آنے کا وعدہ کیا، مگر کیا فائدہ
کہ میں نے پوری عمر کوئی خواب ہی نہیں دیکھا
از مدرسہ بہ کعبہ روم یا بہ مے کدہ
اے پیر رہ بگوئے طریق صواب چیست
میں مدرسے سے کعبے کو جاؤں یا مے کدے کو
میرے مرشد! مجھے سیدھے راستے کی طرف لے جانا
جامیؔ چہ لاف می زنی از پاک دامنی
بر خرقۂ تو ایں ہمہ داغ شراب چیست
جامیؔ! تو پاکیزگی کی ڈینگیں کیوں مارتا ہے
یہ تو بتا کہ تیرے لباس پر یہ شراب کا داغ کیسا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.