عکس آں روئے کہ در آئنۂ جاں افتاد
دل سودا زدہ را کار بجاں افتاد
اُس چہرے کا عکس جب جان کے آئینے میں پڑا
دیوانے دل کا کام اور بگڑ گیا
جز پریشانی و سودا زدگی کارے نیست
تا نظر جانب آں زلف پریشاں افتاد
جب اُس کی بکھری زلف پر نظر پڑی
پریشانی اور دیوانگی کے سوا اور کوئی کام نہ رہا
من اگر بے سر و ساماں شدہ ام عیب مکن
عاشق از روز ازل بے سر و ساماں افتاد
میں اگر بے سر و سامان ہوں تو کوئی برائی نہیں، کیونکہ
عاشقوں کی قسمت میں بے سر و سامانی ہی ہوتی ہے
روح جامیؔ کہ بہ نظارۂ عالم آمد
بہ تماشائے رخ خوب تو حیراں افتاد
جامیؔ کی روح جو پوری دنیا کا نظارہ کرتی ہے
تمہارے حسین چہرے کو دیکھ کر حیران و پریشان ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.