Font by Mehr Nastaliq Web

از یار کہن نمی کنی یاد

جامی

از یار کہن نمی کنی یاد

جامی

MORE BYجامی

    از یار کہن نمی کنی یاد

    ایں شیوۂ نو مبارکت باد

    تو پرانے دوستوں کو یاد نہیں کرتا،

    یہ نیا انداز تجھے مبارک ہو۔

    فریاد کسے نمی کنی گوش

    پیش کہ کنیم از تو فریاد

    تم کسی کی فریاد نہیں سنتے،

    میں تیرے سوا کس سے فریاد کروں؟

    آں سوختہ یافت لذت عشق

    کز وصل نشاں ندید و جاں داد

    اس دل جلے کو عشق کا مزہ مل گیا،

    جس نے وصل کی کوئی نشانی بھی نہ دیکھی اور جان دے دی۔

    با دولتے بندگیت ہستم

    از خواجگیٔ دو عالم آزاد

    مجھے تمہاری بندگی کی دولت نصیب ہو گئی،

    میں دونوں جہانوں سے آزاد ہو گیا۔

    مرغ‌ چمن وفاست جامیؔ

    در دام غم و بلا چہ افتاد

    جامیؔ وفا کے باغ کا پرندہ ہے، اس کا اب دکھوں کے جال میں پھنسنا اور نہ پھنسنا کیا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے