از یار کہن نمی کنی یاد
ایں شیوۂ نو مبارکت باد
تو پرانے دوستوں کو یاد نہیں کرتا،
یہ نیا انداز تجھے مبارک ہو۔
فریاد کسے نمی کنی گوش
پیش کہ کنیم از تو فریاد
تم کسی کی فریاد نہیں سنتے،
میں تیرے سوا کس سے فریاد کروں؟
آں سوختہ یافت لذت عشق
کز وصل نشاں ندید و جاں داد
اس دل جلے کو عشق کا مزہ مل گیا،
جس نے وصل کی کوئی نشانی بھی نہ دیکھی اور جان دے دی۔
با دولتے بندگیت ہستم
از خواجگیٔ دو عالم آزاد
مجھے تمہاری بندگی کی دولت نصیب ہو گئی،
میں دونوں جہانوں سے آزاد ہو گیا۔
مرغ چمن وفاست جامیؔ
در دام غم و بلا چہ افتاد
جامیؔ وفا کے باغ کا پرندہ ہے، اس کا اب دکھوں کے جال میں پھنسنا اور نہ پھنسنا کیا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.