Font by Mehr Nastaliq Web

بگذشت عمرم در جستجویت

حکیم شعیب پھلواروی

بگذشت عمرم در جستجویت

حکیم شعیب پھلواروی

MORE BYحکیم شعیب پھلواروی

    بگذشت عمرم در جستجویت

    تاکے ببینم اے ماہ رویت

    عمر گذر گئی تیری جستجو میں، میں تجھ کو کیسے دیکھوں اے ماہ رو۔ (یہاں مخاطب محبوب دو عالم ہیں یا شاعر نے اپنے پیرو مرشد کو مراد لیا ہے۔ جستجو میں عمر گذرنے سے عرفان وولایت کے مراتب جاننا مراد ہے، اور دیکھنے سے وہ صورت دیکھنی مراد ہے جو حقیقت ومعرفت کی صورت معنوی ہے)۔

    نا خواندہ قرآں گشتم مسلماں

    عاشق شدم من نا دیدہ رویت

    بغیر قرآن پڑھے میں مسلمان ہوگیا، میں تیری صورت دیکھے بغیر تیرا عاشق ہوں۔ (قرآن سے آنحضرت کی سیرت مبارکہ مراد ہے یعنی آپ کی سیرت کو پڑھے بغیر اور صورت دیکھے بغیر آپ پر عاشق ہوں)۔

    دیوانۂ تو تا عمر گشتم

    ایں عہد بستم با زلف و مویت

    آپ کی زلف مشکیں اور روئے منور سے یہی عہد باندھ رکھا ہے کہ زندگی بھر آپ کا دیوانہ رہوں گا۔

    از خاک کوئے تو عز و جاہم

    قربان جاں ہم در آرزویت

    آپ کی گلی کی خاک سے ہی میری عزت واہمیت ہے، اور آپ کی تمنا میں جان دینے کی آرزو بھی ہے۔

    بر آستانت جاں داد آخر

    نیرؔ سگ تو رسوائے کویت

    آخرنیر نے تیرے آستانے پر جان دے دی جو آپ کا سنگ در اور آپ کی گلی کا رسوا ہے۔ (مرشد گرامی کے در آستاں کے سامنے حضرت نیر کا مدفن ان کے اس شعر کی عملی تفسیر ہے)۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 173)
    • Author : شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے