با رخ روشن و با زلف دراز آمدہ ای
با رخ روشن و با زلف دراز آمدہ ای
دل من بہ او فدایت بہ چہ ناز آمدہ ای
لمبی زلفوں اور روشن چہرے والا آ گیا ہے،
میرا دل اس پر قربان ہے، وہ کس ناز و ادا سے آیا ہے۔
سر خود را کہ بس از سجدہ نمی بردارم
تو کہ تاثیر دعا را بہ نماز آمدہ ای
میں سجدے سے اپنا سر اٹھا ہی نہیں سکتا،
وہ دعا کو تاثیر بخشنے کے لیے نماز میں آیا ہے۔
دل بے چارۂ عاشق بکہ زینہا سازد
اے کہ با غمزہ و با عشوہ و ناز آمدہ ای
یہ بیچارہ دل کسی اور کا عاشق کیسے ہو سکتا ہے؟
تو غمزہ، ناز اور ادا کے ساتھ آیا ہے۔
اے نثار تو دل و آں کہ بہ دل میدارم
با ہمہ ناز سوئے اہل نیاز آمدہ ای
تجھ پر دل بھی اور دل میں جو کچھ ہے سب قربان،
تو نماز کے ساتھ اہلِ نیاز کے لیے آیا ہے۔
یاد داری کہ بہ جان تو چہا دوش گذشت
کیفیاؔ سوئے در مے کدہ باز آمدہ ای
کیا تمہیں یاد ہے کہ کل تم نے کیا کہا تھا؟
اے کیفی! تو پھر مے کدے میں لوٹ آیا ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 349)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.