چہ ہائے و ہوئے خوش مستانہ کردم
چہ ہائے و ہوئے خوش مستانہ کردم
تولائے مئے و مے خانہ کردم
میں نے ایسا نعرۂ مستانہ بلند کیا کہ ہر طرف مستی چھا گئی، میں نے شراب اور مے خانے کو محبت بنا لیا۔
بہ تاب شمع روئے مجلس قدس
دل شوریدہ را پروانہ کردم
آپ کے رخ کی شمع کی روشنی سے میں نے اپنے بے قرار دل کو اس کا پروانہ بنا دیا۔
مہ و خورشید گردیدند با من
چو دور ساغر و پیمانہ کردم
جب میں نے ساغر اور پیمانہ کے دور کا آغاز کیا تو چاند اور سورج بھی میرے گرد گردش کرنے لگے۔
بہ دل عشق بت کافر گزیدم
حریم کعبہ را بت خانہ کردم
میں نے اپنے دل میں اس بت کافر کی محبت بسا لی اور کعبے کو بت خانہ بنا دیا۔
ز زہد و طاعت و طامات و رندی
فدائیؔ توبۂ مردانہ کردم
میں نے زہد، عبادت کے غرور، کھوکھلے دعووں اور رندی سب سے، فدائیؔ نے بہادری و ہمت کے ساتھ توبہ کر لی۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 277)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.