Font by Mehr Nastaliq Web

چہ ہائے و ہوئے خوش مستانہ کردم

فدائی جونپوری

چہ ہائے و ہوئے خوش مستانہ کردم

فدائی جونپوری

MORE BYفدائی جونپوری

    چہ ہائے و ہوئے خوش مستانہ کردم

    تولائے مئے و مے خانہ کردم

    میں نے ایسا نعرۂ مستانہ بلند کیا کہ ہر طرف مستی چھا گئی، میں نے شراب اور مے خانے کو محبت بنا لیا۔

    بہ تاب شمع روئے مجلس قدس

    دل شوریدہ را پروانہ کردم

    آپ کے رخ کی شمع کی روشنی سے میں نے اپنے بے قرار دل کو اس کا پروانہ بنا دیا۔

    مہ و خورشید گردیدند با من

    چو دور ساغر و پیمانہ کردم

    جب میں نے ساغر اور پیمانہ کے دور کا آغاز کیا تو چاند اور سورج بھی میرے گرد گردش کرنے لگے۔

    بہ دل عشق بت کافر گزیدم

    حریم کعبہ را بت خانہ کردم

    میں نے اپنے دل میں اس بت کافر کی محبت بسا لی اور کعبے کو بت خانہ بنا دیا۔

    ز زہد و طاعت و طامات و رندی

    فدائیؔ توبۂ مردانہ کردم

    میں نے زہد، عبادت کے غرور، کھوکھلے دعووں اور رندی سب سے، فدائیؔ نے بہادری و ہمت کے ساتھ توبہ کر لی۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات سماع (Pg. 277)
    • مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے