چو نتوانم کہ بر خوان وصالت میہماں باشم
چو نتوانم کہ بر خوان وصالت میہماں باشم
سر خدمت نہادہ چوں سگاں بر آستاں باشم
اگر میں تمہارے وصال کے دسترخوان پر مہمان نہیں بن پاؤں گا
تو میں کتّوں کی طرح تمہاری چوکھٹ پر بیٹھا رہوں گا
بہر گونہ کہ باشم از من بد روز نہ پسندی
نمی دانم چہ ساں می خواہیم تا آں چناں باشم
اگر تو ہماری صورت کو پسند نہیں کرتا
تو خود ہی بتا کہ میں کیسا بنوں کہ تجھے پسند آؤں
من از تو شاد گردم تو ز من غمگیں خوشا حالے
کہ تو باشی عیاں در دیدۂ من من نہاں باشم
میں تجھ سے خوش ہوں اور تو دکھی ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ
تو میری نظر میں عیاں رہتا اور میں چھپا ہوتا
ز ناموس خودم مقصود نام و ننگ تست ار نہ
مرا غم نیست کز عشق تو رسوائے جہاں باشم
مجھے اپنی عزّت کا خیال نہیں، میں تو تیرے نام پر مرتا ہوں
اگر میں تیرے عشق میں بدنام ہو جاؤں تو مجھے کوئی غم نہیں
طفیل من ہمی دیدند رویت دیگراں اکنوں
شدم راضی کہ چوں جامیؔ طفیل دیگراں باشم
ہمارے طفیل لوگوں نے تمہارا دیدار کر لیا
مجھے خوشی ہوتی اگر میں جامیؔ کی طرح دوسروں کا ہو جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.