Font by Mehr Nastaliq Web

دیدہ لبریزم سراپا انتظار کیستم

نا معلوم

دیدہ لبریزم سراپا انتظار کیستم

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل عموماً حافظ شیرازی سے منسوب کی جاتی ہے، ہندوستان کی خانقاہوں میں قوال اسے مدتوں سے حافظ کے کلام کے طور پر پڑھتے چلے آ رہے ہیں اور کتاب نغماتِ سماع کی روایت میں بھی اس کی نسبت حافظ ہی کی طرف کی جاتی ہے، تاہم دستیاب نسخوں دیوانِ حافظ میں اس غزل کا کوئی معتبر سراغ نہیں ملتا، اس بنا پر غالب گمان یہی ہے کہ یہ غزل حافظ سے منسوب ہو گئی لیکن اس انتساب کی تائید دیوانِ حافظ کے مستند نسخوں سے نہیں ہوتی۔

    دیدہ لبریزم سراپا انتظار کیستم

    ذوق دیدارے کہ دارم بے قرار کیستم

    میری آنکھیں لبریز ہیں میں کسی کے لۓ سراپا انتظار ہوں، مجھے کس کے دیدار کا شوق ہے اور میں کس کے لۓ بیقرار ہوں؟

    کشتۂ آں خال مشکیں بستۂ زلف سیاہ

    گر مسلماں نیستم زنار دار کیستم

    میں اس معطر تل والے کا مارا ہوا اور سیاہ زلف کا قیدی ہوں، اگر میں مسلمان نہیں ہوں تو میں نے کس کا زنار اپنی گردن میں ڈالا ہے؟

    گشتہ صیاد دلم زخمیّ شمشیر نگاہ

    نیم بسمل گشتہ ام یا رب شکار کیستم

    نگاہوں کی تلوار سے میرا شکاری دل زخمی ہو گیا ہے، میں آدھا زخمی ہو گیا خدا میں کس کا شکار ہوں؟

    دوستاں منصور وقتم چو انا الحق می زنم

    رشتۂ‌ در گردنم من زیر دار کیستم

    دوستوں میں منصور وقت ہوں اور اناالحق کی صدا لگا رھا ہوں، میری گردن میں ایک ڈور ہے میں کس کی سولی کے نیچے ہوں؟

    مظہر حسن جمالم یا کہ عکس روئے او

    پس بہ بیں اے دوستاں آئینہ دار کیستم

    میں اس کے حسن کا مظہر یا اس کے چہرے کا عکس ہوں، لوگو تم ہی بتا‎ؤ کہ میں کس کا آئینہ ہوں؟

    عاشق حسن خودم در عشق خود مست آمدم

    بے قرار از خود منم من بے قرار کیستم

    میں اپنے حسن کا خود عاشق ہوں اور اپنے ہی عشق میں مست ہوں، میں خود سے ہی بیقرار ہوں لیکن کس کے لۓ بیقرار ہوں؟

    حافظاؔ در مدرسہ دردی کشم در مے کدہ

    سخت حیراں گشتہ ام من در شمار کیستم

    اے حافظ میں نے مدرسہ کا تلچھٹ پیا اور مے کدے میں سخت پریشان ہوں کہ میرا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے؟

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات سماع (Pg. 225)
    • مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے