درد ما را نیست درماں الغیاث
ہجر ما را نیست پایاں الغیاث
ہمارے درد کا علاج نہیں ہے فریاد ہے، ہمارے ہجر کی انتہا نہیں ہے فریاد ہے۔
دین و دل بردند و قصد جاں کنند
الغیاث از جور خوباں الغیاث
دین اور دل تو لے گئے اب جان کا ارادہ ہے، فریاد ہے حسینوں کے ظلم سے فریاد ہے۔
در بہائے بوسۂ جانے طلب
میکنند ایں دلستاناں الغیاث
ایک بوسہ کی قیمت میں جان طلب کرتے ہیں یہ دل لے لینے والے فریاد ہے۔
خون ما خوردند ایں کافر دلاں
اے مسلماناں چہ درماں الغیاث
یہ کافر ہمارا خون پی گئے، اے مسلمانو کیا علاج ہے فریاد ہے۔
دادِ مسکیناں بدہ اے روز وصل
از شبِ یلدائے ہجراں الغیاث
اے وصل کے دن مسکینوں کی فریاد رسی کر، ہجر کی تاریک رات سے فریاد ہے۔
ہر زمانم درد دیگر می رسد
زیں حریفاں بر دل و جاں الغیاث
مجھے ہر وقت نیا درد پہنچتا ہے، ان دوستوں سے دل اور جان پر فریاد ہے۔
ہمچو حافظؔ روز و شب بے خویشتن
گشتہ ام سوزاں و گریاں الغیاث
حافظؔ کی طرح دن اور رات بیخود، سوزاں اور گریاں بنا ہوں فریاد ہے۔
- کتاب : دیوان حافظ (Pg. 107)
- کتاب : دیوان حافظ (Pg. 106)
- Author :حافظ شیرازی
- مطبع : پروگریسو بکس، لاہور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.