دیدہ لبریزم سراپا انتظار کیستم
دلچسپ معلومات
یہ غزل عموماً حافظ شیرازی سے منسوب کی جاتی ہے، ہندوستان کی خانقاہوں میں قوال اسے مدتوں سے حافظ کے کلام کے طور پر پڑھتے چلے آ رہے ہیں اور کتاب نغماتِ سماع کی روایت میں بھی اس کی نسبت حافظ ہی کی طرف کی جاتی ہے، تاہم دستیاب نسخوں دیوانِ حافظ میں اس غزل کا کوئی معتبر سراغ نہیں ملتا، اس بنا پر غالب گمان یہی ہے کہ یہ غزل حافظ سے منسوب ہو گئی لیکن اس انتساب کی تائید دیوانِ حافظ کے مستند نسخوں سے نہیں ہوتی۔
دیدہ لبریزم سراپا انتظار کیستم
ذوق دیدارے کہ دارم بے قرار کیستم
میری آنکھیں لبریز ہیں میں کسی کے لۓ سراپا انتظار ہوں، مجھے کس کے دیدار کا شوق ہے اور میں کس کے لۓ بیقرار ہوں۔
کشتۂ آں خال مشکیں بستۂ زلف سیاہ
گر مسلماں نیستم زنار دار کیستم
گشتہ صیاد دلم زخمیّ شمشیر نگاہ
نیم بسمل گشتہ ام یا رب شکار کیستم
دوستاں منصور وقتم چو انا الحق می زنم
رشتۂ در گردنم من زیر دار کیستم
مظہر حسن جمالم یا کہ عکس روئے او
پس بہ بیں اے دوستاں آئینہ دار کیستم
عاشق حسن خودم در عشق خود مست آمدم
بے قرار از خود منم من بے قرار کیستم
حافظاؔ در مدرسہ دردی کشم در مے کدہ
سخت حیراں گشتہ ام من در شمار کیستم
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 225)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.