Font by Mehr Nastaliq Web

امروز مرا در دل جز یار نمی گنجد

فخرالدین عراقی

امروز مرا در دل جز یار نمی گنجد

فخرالدین عراقی

MORE BYفخرالدین عراقی

    امروز مرا در دل جز یار نمی گنجد

    وزیار چنان پر شد کا غیار نمی گنجد

    آج میرے دل میں صرف یار کی محبت کی جگہ ہے اور یہ محبت میرے دل میں اس قدر سمائی ہوئی ہے، کہ اب اس میں کسی اور چیز کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

    در چشم پُر آبِ من جز یار نمی گنجد

    در جان خرابِ من جز یار نمی گنجد

    میری آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں محبوب کے سوا کوئی نظر نہیں آتا، اور میرے مضطرب دل میں میرے یار کے علاوہ کسی اور کی گنجائش نہیں ہے۔

    با ایں ہمہ غم شادم کاندر دل تنگ من

    غم راہ نمے یابد تیمار نمی گنجد

    ان تمام غموں سے میں خوش ہوں کیونکہ میرے غم سے بھرے دل میں اداسی کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں اور کوئ درد و غم بھی نہیں ہے اور کسی تیماردار کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

    ایں قطرۂ خون ما یافت از لعل لبش رنگی

    از شادی آن در پوست زنار نمی گنجد

    ہمارے خون کے اس قطرہ کو اس کے سرخ لبوں سے یہ رنگ ملا ہے، اس کے جسم کی کھال پر زنار کی کو‎‎ئ ضرورت نہیں ہے۔

    رو بر در او سرمست از عشق رخش زانرو

    در بزمِ وصالِ او ہشیار نمی گنجد

    اس کے رخ زیبا کے حصول کے لۓ اس سرمست کے آستانے پر جاؤ کیونکہ اس کی محفل وصال میں ہوشیار لوگوں کے لۓ کوئ جگہ نہیں ہے۔

    شیدائے جمالِ او زر خلد نیارامد

    مشتاق لقائے او در نار نمی گنجد

    اس کے حسن کے عاشق و شیدا کو جنت میں بھی قرار نہیں مل سکتا،

    اور جو اس کے دیدار کا مشتاق ہے اس کو آگ کا کوئ خوف نہیں ہو سکتا ہے۔

    چون پردہ براندازد عالم بسر اندازد

    جائے کہ یقین آمد پندار نمی گنجد

    جب پردہ اٹھ جاتا ہے تو عالم نظر آنے لگتا ہے، جب یقین آ جاتا ہے تو گمان کی کوئ گنجائش نہیں ہوتی ہے۔

    ہم دیدۂ او باید تا حسن رخش بیند

    کانجا کہ جمالِ اوست ابصار نمی گنجد

    ہر آنکھ کو چاہۓ کہ اس کے حسین رخ تک رسائ حاصل کرے، جہاں اس کا جمال ہے وہاں تک ہر بصیرت کی رسائ نہیں ہے۔

    از گفت بدِ دشمن آزردہ نکردم زانک

    با دوست مرا در دل آزار نمی گنجد

    میں دشمن کی بری باتوں سے رنجیدہ نہیں ہوا، اس لیے کہ میرے دل کو دوست کی ذات سے کوئ تکلیف نہیں ہے۔

    جانم درِ دل می زد دل گفت برو کاین دم

    با یار دریں خلوت دیار نمی گنجد

    میری روح نے دل کے دروازے پر دستک دی، دل نے کہا کہ لوٹ جاؤ، کیونکہ اس لمحے اس خلوت میں یار کے سوا کسی اور کی گنجائش نہیں۔

    خواہی کہ دروں آئی بگذار عراقیؔ را

    کاندر تتقِ انور اطوار نمی گنجد

    اگر تم اندر آنا چاہتے ہو تو اے عراقی تمھیں خود سے دست بردار ہونا پڑیگا کہ خیمۂ نور میں داخل ہونے کے آداب الگ ہیں۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے