بہ خیال حسن جاناں شب غم دراز کردم
بہ خیال حسن جاناں شب غم دراز کردم
از حور و قصر جنت دل بے نیاز کردم
حسن جاناں کے خیال کے سہارے میں نے اپنی شب غم کو بسر کیا، حور و جنت کے قصروں سے میں نے اپنے دل کو بے نیاز کر دیا ہے۔
چہ ناز مے فروشی بہ نیاز درد منداں
ہمہ جان و دل بہ وقفِ کوئے نیاز کردم
دردمندوں کو میں کیا ناز بیچنے کی کوشش کروں، اس لۓ میں نے اپنے تمام جان و دل کو کوئے نیاز کے لیے وقف کر دیا۔
بہ جبیں ز مہر داغ بجمال فتنہ بودی
چوں بسوز برقِ حسنت بر برق ناز کردم
جبین پر محبت کا داغ جمال کے لۓ فتنہ تھا، اور جب تمھارے حسن کی بجلی کے سوز پر مجھے ناز ہے۔
سخنے من و تو آخر ہر جافسانہ گردد
شب و روز آرزوئے مثل ایاز کردم
میرے اور تیرے درمیان گفتگو کا جگہ جگہ فسانہ بن جائے گا، میں نے اپنی تمنا کے تکمیل کے لۓ دن رات ایاز کی طرح مانگا ہے۔
ایں فقیر قادریؔ را بہ ادا شکار کردی
صد شکر صد ستائش بندہ نواز کردم
اس فقیر قادریؔ کا تو نے اپنی اداؤں سے شکار کیا ہے، او سینکڑوں شکر و سینکڑوں تعریف کہ میں نے بندہ نوازی کا شکر ادا کر دیا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.