منم رندم منم صورت پرستم
منم رندم منم صورت پرستم
کہ روز و شب بکوئے یار رفتم
میں رِند ہوں اور صورت کا پرستار ہوں، کہ دن و رات میں یار کے کوچے میں ہی جاتا رہا ہوں۔
بجز صورت نمی دانم خدا را
منم قالوا بلیٰ روز استم
میں خدا کے سوا کسی کو نہیں جانتا، میں “قالوا بلیٰ” کے روز کا فرد ہوں۔
عجب بینم فاینما تولو
یداللہ فوق ایدیھم بدستم
ہر سمت جدھر بھی نظر اٹھتی ہے “فَاینما تولوا” کا عجیب منظر نظر آتا ہے، “یَدُ اللہِ فَوْقَ أَیْدِیْہِمْ” میں نے خدا کے ہاتھ کو اپنے ہی ہاتھ میں پایا۔
شدم بیزار از گفتار واعظ
دلم با ناطقِ قرآن بستم
واعظ کی باتوں سے میں بیزار ہو گیا ہوں، میرا دل ناطقِ قرآن سے جڑا ہوا ہے۔
فدائیم جلوۂ نازک نہالاں
بہ مستیٔ ساغر و مینا شکستم
میں اس معشوق پر قربان ہو گیا ہوں، کہ مستی میں میں نے ساغر بھی توڑا اور مینا بھی۔
فقیر قادریؔ چہ خوب گفتی
کہ یارم شد خدا من خاک ہستم
فقیرِ قادریؔ نے کیا خوب کہا ہے، کہ میرا یار خدا ہے اور میں خاک بن گیا ہوں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.