Font by Mehr Nastaliq Web

اے مسیحا جان من بیمار اوست

فرد پھلواروی

اے مسیحا جان من بیمار اوست

فرد پھلواروی

MORE BYفرد پھلواروی

    اے مسیحا جان من بیمار اوست

    سود مندم یک نظر دیدار اوست

    اے طبیب! (تو میری جان بچانے کی کوشش میں ہے، حالاں کہ میری بیماری عشق ہے اور) میری جان اس معشوق (ذات رسالت) کی بیمار ہے (تیری کوشش کامیاب نہیں ہوگی، ہاں اگر) وہ نظر دیکھ لے مجھ کو تو صحت مند ہوسکتا ہوں (کیوں کہ ان کی ایک نگاہ مسیحا اثر ہی میرے مرض کا درماں ہے)۔

    لعل نوشیں زندگانی بخش خضر

    معجزہ در شربت گفتار اوست

    اس معشوق (حضرت رسالت) کے لبہائے مبارک خضر کو زندگی بخشنے والے ہیں، اس کے شربت گفتار یعنی شیریں گفتگو میں معجزہ ہے (یہ حقیقت ہے کہ آپ کے شیریں الفاظ اور شیریں بیانی میں وہ حیات بخش تاثیر تھی جو دم عیسی میں نہ تھی)۔

    فردؔ را تکلیف از جنت مدہ

    راحتے در سایۂ دیوار اوست

    فردؔ کو جنت میں رہنے کی تکلیف نہ دو (اے فرشتو!) محبوب پاک کے دیوار کے سایہ میں اس کے لیے آرام ہے (قرب نبوی مطلوب ہے، بغیر قرب کے جنت بھی منظور نہیں)۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 162)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے