اے مسیحا جان من بیمار اوست
اے مسیحا جان من بیمار اوست
سود مندم یک نظر دیدار اوست
اے طبیب! (تو میری جان بچانے کی کوشش میں ہے، حالاں کہ میری بیماری عشق ہے اور) میری جان اس معشوق (ذات رسالت) کی بیمار ہے (تیری کوشش کامیاب نہیں ہوگی، ہاں اگر) وہ نظر دیکھ لے مجھ کو تو صحت مند ہوسکتا ہوں (کیوں کہ ان کی ایک نگاہ مسیحا اثر ہی میرے مرض کا درماں ہے)۔
لعل نوشیں زندگانی بخش خضر
معجزہ در شربت گفتار اوست
اس معشوق (حضرت رسالت) کے لبہائے مبارک خضر کو زندگی بخشنے والے ہیں، اس کے شربت گفتار یعنی شیریں گفتگو میں معجزہ ہے (یہ حقیقت ہے کہ آپ کے شیریں الفاظ اور شیریں بیانی میں وہ حیات بخش تاثیر تھی جو دم عیسی میں نہ تھی)۔
فردؔ را تکلیف از جنت مدہ
راحتے در سایۂ دیوار اوست
فردؔ کو جنت میں رہنے کی تکلیف نہ دو (اے فرشتو!) محبوب پاک کے دیوار کے سایہ میں اس کے لیے آرام ہے (قرب نبوی مطلوب ہے، بغیر قرب کے جنت بھی منظور نہیں)۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 162)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.