غیرت از چشم برم روئے تو دیدن ندہم
غیرت از چشم برم روئے تو دیدن ندہم
گوش را نیز حدیث تو شنیدن ندہم
غیرت کے باعث میں اپنی آنکھ کو بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ تیرا چہرہ دیکھے۔اور کان کو بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ تیری باتیں سنے
ہدیۂ زلف تو گر ملک دو عالم بہ دہند
یعلم اللہ سر موئے خریدن نہ دہم
اگر تیری زلف کے بدلے دونوں جہان کی سلطنت بھی دے دی جائے تو خدا گواہ ہے کہ تیری ایک زلف بھی خریدنے نہیں دوں گا۔
گر بیاید ملک الموت کہ جانم ببرد
تا نہ بینم رخ تو روح رمیدن نہ دہم
اگر ملک الموت جان لینے کو آئے تو جب تک تمہارا چہرہ نہ دیکھ لوں روح نہ نکالنے دوں گا۔
گر شبے دست دہد وصل تو از غایت شوق
تا قیامت نہ شود صبح دمیدن نہ دہم
اگر کسی رات تمہارا وصل نصیب ہو جائے تو انتہائے شوق میں قیامت تک صبح نہ ہونے دوں گا۔
گر بہ دام دل من افتد آں عنقا باز
گرچہ صد حملہ کند باز پریدن نہ دہم
اگر وہ(عنقا) بلند پرواز محبوب میرے دل کے جال میں پھنس جائے،
تو پھر وہ چاہے کتنی ہی کوشش کرے، میں اسے بچ کر جانے نہ دوں گا۔
شرفؔ ار باد وزد بوئے ز زلفش ببرد
باد را نیز دریں دہر وزیدن نہ دہم
شرف اگر ہوا چلے اور اس کی زلفوں کی خوشبو کو لے اڑے تو میں ہوا کو بھی اس دیار میں چلنے نہ دوں۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 204)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.