گفتم کہ روشن چوں قمر گفتا کہ رخسار منست

امیر خسرو

گفتم کہ روشن چوں قمر گفتا کہ رخسار منست

امیر خسرو

MORE BYامیر خسرو

    گفتم کہ روشن چوں قمر گفتا کہ رخسار منست

    گفتم کہ شیریں از شکر گفتا کہ گفتار منست

    میں نے کہا چاند سے زیادہ کچھ روشن ہے؟ کہا میرے رخسار

    میں نے کہا شکر سے زیادہ میٹھا کچھ ہے؟کہا میری گفتار

    گفتم طریق عاشقاں گفتا وفاداری بود

    گفتم مکن جور و جفا گفتا کہ ایں کار منست

    میں نے کہا عاشقوں کا طریق کیا ہے؟ کہا محبوب سے وفاداری

    میں نے کہا کہ جور و جفا نہ کیجیے، کہا یہ تومیرا کام ہے

    گفتم کہ مرگ عاشقاں گفتا کہ درد ہجر من

    گفتم علاج زندگی گفتا کہ دیدار منست

    میں نے کہا مرگ ناگہاں کیا ہے؟ کہا میرے ہجر کا درد

    میں نے کہا زندگی کا علاج کیا ہے؟ کہا میرا دیدار

    گفتم بہاری یا خزاں گفتا کہ رشک حسن من

    گفتم خجالت کبک را گفتا کہ رفتار منست

    میں نے کہا توبہار ہے یا خزاں، کہا کہ وہ میرے حسن پر رشک کناں ہیں میں نے کہا کہ چکور کی شرمندگی کیا ہے،کہا کہ میری رفتار

    گفتم کہ حوری یا پری گفتا منم شاہ بتاں

    گفتم کہ خسروؔ ناتواں گفتا پرستار منست

    میں نے کہا کہ یہ حور و پری کیا ہے؟ کہا کہ میں خوبروؤں کاباد شاہ ہوں/ میرا مقام ان سے بلند ہے

    میں نے کہا کہ خسروؔ تو ناتواں ہے، کہا میرا پرستار تو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.


    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.


    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.


    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi