Font by Mehr Nastaliq Web

ہر دم ز تو بر سینہ صد داغ جفا خواہم

جامی

ہر دم ز تو بر سینہ صد داغ جفا خواہم

جامی

MORE BYجامی

    ہر دم ز تو بر سینہ صد داغ جفا خواہم

    با درد تو خو دارم حاشا کہ دوا خواہم

    میں ہر دم اپنےدل میں تمہاری جفا کے سینکڑوں داغ چاہتا ہوں۔ میں تمہارے درد کا عادی ہوں دوا کا طلب گار نہیں ہوں۔

    ہر کس بہ ہوائے دل دارد ز تو مقصودے

    اے جملہ طفیل تو من از تو ترا خواہم

    ہر شخص اپنے دلی خواہشات کے مطابق تم سے اپنا دامن وابستہ کرتا ہے، لیکن اے وہ کہ جس کے طفیل میں سارے مقصد ہیں، میں تم سے تمہیں کو چاہتا ہوں۔

    دی از تو وفا جستم دادی بہ جفا وعدہ

    باز آمدہ ام امروز کاں وعدہ وفا خواہم

    کل میں تم سے وفا کا طالب تھا تو تم نے جفا کا وعدہ کیاتھا، آج میں پھر آیا ہوں کہ جو وعدۂ جفا تم نے کیا تھا وہ وفا کراؤں (یعنی جفا قبول کرنے کی خواہش لے کر آیا ہوں، محبوب کی وفا نہ سہی، جفا سہی، یہ بھی بڑی چیز ہے۔ تعلق خاطر کی علامت ہے)۔

    گفتی کہ کرا خواہی از خیل بتاں جامیؔ

    چشمیست مرا آخر غیر از تو کرا خواہم

    پوچھتے ہو کہ اے جامیؔ معشوق کی جماعت میں سے تو کس کو چاہتا ہے؟ تو میری امیدوں کا مرکز تم ہو۔ میں تمہارے سوا کس کو چاہوں گا۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 242)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے