جاں بجاناں دادم و جانانہ خود را یافتم
جاں بجاناں دادم و جانانہ خود را یافتم
در زدم از بہر خود در خانہ خود را یافتم
میں نے اپنی جان دے کر اپنے محبوب کو پا لیا
میں نے اپنے ہی لیے دروازہ کھٹکھٹایا اور خود کو گھر کے اندر پایا
خویش را بیروں فگندم از حریم وصل یار
چوں دریں خلوت سرا بیگانہ خود را یافتم
جب میں نے تنہائی میں خود کو بیگانہ پایا
تو خود کو محبوب کے گھر کی چہار دیواری سے باہر ڈال دیا
من نہنگ عشقم اندر بحر بے پایان عشق
چوں فرو رفتم درو دردانہ خود را یافتم
میں عشق کے بے کراں سمندر میں ایک مگرمچھ کی مانند ہوں
جب غوطہ لگاتا ہوں تو خود کو موتی کی صورت میں پاتا ہوں
سالہا گشتم بر اطراف جہاں گرداں چو باد
از برائے آں پری دیوانہ خود را یافتم
میں برسوں سے ہوا کی طرح آوارہ پھر رہا ہوں
اس پری کے لیے میں دیوانہ ہو گیا ہوں
چوں شدم مست از جمال یار چوں ابن یمیںؔ
ساغر و جام و مے و پیمانہ خود را یافتم
ابن یمینؔ کی طرح جب میں یار کے جمال سے مست ہوا
تو خود کو میں نے ساغر و جام کی شکل میں پایا
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 205)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.