کے رود یارب کہ رو در یثرب و بطحا کنم
گہ بہ مکہ منزل و گہ مدینہ جا کنم
خداوندا! کیا صورت ہو کہ میں یثرب و بطحا کا سفر کروں، کبھی مکے میں منزل کروں کبھی مدینے میں جگہ بناؤں
بر کنار زمزم از دل بر کشم یک زمزمہ
وز دو چشم خوں فشاں آں چشمہ را دریا کنم
چاہ زمزم کے کنارے اخلاص دل کے ساتھ ہلکی آواز میں نغمہ سرائی کروں اور دونوں خوں فشاں آنکھوں (کے اشکوں) سے چشمۂ زمزم کو دریا بنا دوں۔
بر در باب السلام آیم بگریم زار زار
گہ بہ باب جبرئیل از شوق واویلا کنم
باب السلام (مسجد نبوی شریف کا ایک دروازہ) کی چوکھٹ پر آکر زار زار رؤں، اور کبھی باب جبرئیل پر عالم شوق میں واویلا کروں
یا رسولؐ اللہ بہ سوئے خود مرا راہے نما
تا ز فرق سر قدم سازم ز دیدہ پا کنم
یا رسول اللہ! اپنی طرف میری رہنمائی فرمایئے تاکہ پیشانی کو قدم اور آنکھ کو پیر بنا کر آپ تک پہنچوں (یعنی سر کے بل چلوں)
آرزوئے جنت الماویٰ بروں کردم ز دل
جنتم ایں بس کہ بر خاک درت ماویٰ کنم
جنت الماویٰ کی خواہش میں نے اپنے دل سے نکال دی ہے، میری جنت بس یہی ہے کہ آپ کے در کی خاک کو ماویٰ و ملجا بنا لوں۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 243)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.