خود تجلی کرد بر خود آں بت عیار ما
خود تجلی کرد بر خود آں بت عیار ما
شاہد روئے خود آمد یار گل رخسار ما
ہمارے اس بت عیار نے خود اپنے آپ ہر اپنی تجلی دکھائی، پھول جیسے چہرے والے ہمارے محبوب کی صورت وہ خود اپنے حسن کا گواہ بن کر آیا۔
مقتضائے حسن باشد جلوہ گر بودن بہ خود
مہر و مہ در آئینہ بیں شاہد گفتار ما
اپنے حسن کو دیکھنا حسن کا تقاضہ ہوتا ہے، ہمارے اس دعوے کے گواہ کی حیثیت سے چاند اور سورج کو آئینے میں دیکھو۔
یارب ایں رو نور تابانست یا افسون و سحر
کز طلسم جادوش دیوانہ شد ہشیار ما
اے خدا یہ چہرہ (چہرۂ انوار رسول)کوئی روشن نور ہے یا کوئی طلسم، اور جادو کہ جس کے جادو کے منتر سے ہمارا ہوشیار دیوانہ ہو گیا (عقل نے اپنے ہواس گم کر دیئے)۔
موئے او گیسوئے مشکینست یا دکان عطر
شد پر از بوئے دل آویزش سر عطار ما
ان کے زلف معنبر مشک کے گیسو ہیں یا کوئی عطر کی دکان، کہ جس کی دلاویز و مسحور کن خوشبو سے ہمارے عطار کا مشام معطر ہو گیا۔
حسن خود نگذاشت تا بیند بہ سوئے ما سوا
تا بیاید سوئے ما آں یار خوش رفتار ما
اس نے اپنے حسن کو نہ چھوڑا تا کہ وہ ما سوا کی طرف متوجہ ہو، تا کہ ہمارا وہ خوش خرام محبوب ہماری طرف آئے۔
بس کہ مجمل یک نگاہے سوئے ما ہم کردہ بود
گو باستثنا نہ کردہ رو بہ استضحار ما
ہاں کہ مجملاً اس نے ایک نگاہ ہماری طرف بھی کی تھی، اگرچہ اس نے استثنا کے ساتھ ہمارے سامنے ظہور نہیں کیا تھا۔
مختفی در ذات او بودیم چوں روغن بہ شیر
سر خود می دید و آمد بر سر اسرار ما
ہم اس کی ذات میں اس طرح گم تھے جیسے دودھ میں روغن،
وہ اپنے راز کو دیکھ رہا تھا اور ہمارے رازوں کی پردہ داری کرنے کے لئے آیا۔
از ازل چوں برق بہ گذشت از رہ ملک ظہور
دید بالاجمال نقد و جنس ایں بازار ما
ظہور کی مملکت کے راستے وہ ازل میں برق کی طرح گذرا، اس نے اجمالی پر ہمارے اس بازار(دنیا) کے نقد و جنس کا مشاہدہ کیا۔
بود شوخ و برگ و گل در تخم ذاتش مندمج
در تماشائے خودش شد سیر ایں گلزار ما
اس کی ذات کے تخم میں شاخ و برگ اور پھول شامل تھے، خود اپنا تماشہ دیکھنے کے لئے اس نے ہمارے چمن کی سیر کی۔
بے تعین بود کنج مخفی اندر کنج غیب
در تعین آمد آں گنجینۂ اسرار ما
غیب کے گوشے میں بغیر کسی تشخص و تعین کے اس کی ذات پوشیدہ خزانہ تھی، اسرار کا ہمارا وہ خزانہ دنیا میں تشخص و تعین کے ساتھ ظاہر نہ ہوا۔
جلوۂ نورے نمود و نور احمدؐ نام ساخت
بس بود احمدؐ احد از روئے ایں گفتار ما
اس نے اپنے نور کا ایک جلوہ دکھایا اور (اس کا) نام احمد رکھا، پس ہماری اس بات کی بنا پر احمد ہی احد ہوا۔
از تعین اول و وحدت بیانے کردہ ام
اے نیازؔ آور بگوش ایں گوہر شہوار ما
تعین و تشخص سے میں نے اول اور وحدت کا بیان کیا ہے، اے نیازؔ ہمارے اس قیمتی موتی کو اپنے کانوں میں سمو لے۔
- کتاب : دیوان نیاز بے نیاز (Pg. 26)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.