من آں نور و جودم خودبخود موجود بودستم
من آں نور و جودم خودبخود موجود بودستم
بنور ذات خود خود شاہد و مشہود بودستم
میں وہ نور ہوں کہ خود بخود وجود میں آیا ہوں، اپنی ذات کے نور میں خود شاہد اور خود مشہود ہوں ( یعنی عاشق ومعشوق)۔
منم آں نقطۂ وحدت کہ اندر ذات خود با خود
ز کثرت ناظر خودہا خط ممدود بودستم
میں وہ نقطۂ وحدت ہوں کہ خود اپنی ذات کے اندر بکثرت اپنے کو دیکھنے والا کھینچا ہوا خط ہوں۔
منم اول منم آخر منم ظاہر منم باطن
منم ممکن منم واجب بہر موجود بودستم
میں ہی اول ہوں، میں ہی آخر ہوں، میں ہی ظاہر ہوں، میں ہی باطن ہوں۔ میں ہی ممکن ہوں، میں ہی واجب، میں ہر موجود میں ہوں۔
لباس آخرین ما جمال احمدی بنگر
کہ من احمد محمدؐ حامد و محمود بودستم
ہمارا لباس آخری جمال احمدی میں دیکھو کہ میں ہی احمد محمد حامد اور محمود ہوں۔
ز سر خود چہ گویم فرد بودم نصرؔ چوں گشتم
اگرچہ ما بری از والد و مولود بودستم
میں اپنا راز کیا کہوں؟ میں فرد تھا نصرؔ کیسے ہوگیا۔ اگرچہ میں والد ومولود کے (رشتہ) سے بری ہوں۔
من آں در ثمین بحر معنائے دل فردم
کہ اندر رشتۂ الفت بجاں معقود بودستم
میں فرد کے بحر معنائے دل کا وہ قیمتی موتی ہوں کہ اپنی جان میں رشتۂ الفت سے بندھا ہوا ہوں۔ (یہ اشعار وحدۃ الوجود کے ہیں، تشریح وتفہیم کی گنجائش نہیں ہے)۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 252)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.