من لذت درد تو بہ درماں نہ فروشم
من لذت درد تو بہ درماں نہ فروشم
کفر سر زلف تو بہ ایماں نہ فروشم
میں تمہارے درد کی لذّت کو علاج کے عوض ہرگز نہیں بیچوں گا،
تمہاری زلف کے خیال کفر کو ایمان کے بدلے نہیں بیچوں گا۔
در دل بہ خیال رخ روئے تو خلیدہ
خارے کہ بہ صد گلشن رضواں نہ فروشم
میرے دل میں تمہارے چہرے کے تصور کی ایک چبھن بسی ہوئی ہے،
اس کانٹے کو میں جنت کے سینکڑوں باغوں کے بدلے بھی نہیں بیچوں گا۔
صد جان فدائے کہ دہم دامنت از دست
دشوار بدست آمد و آساں نہ فروشم
اے دوست! میں اپنی جان تمہارے دامن پر نچھاور کر دوں،
یہ نعمت بڑی مشکل سے ہاتھ آئی ہے، میں اسے یوں ہی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا۔
کام دو جہاں در عوض غم نہ ستانم
ایں جنس گرامی بہ کس ارزاں نہ فروشم
میں غم کے بدلے دونوں جہان کی دولت بھی قبول نہیں کروں گا،
اس دولت کو میں کبھی سستا سودا نہیں بناؤں گا۔
قدسیؔ من و تر دامنیٔ عشق چو زاہد
ہرگز بہ کس پاکیٔ داماں نہ فروشم
اے قُدسی! میں ہوں اور میرے عشق کا مئے آلو دامن ہے،
میں اسے زاہد کی طرح ظاہری پاک دامنی کے بدلے کبھی نہیں بیچوں گا۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 219)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.