نہ من در خانۂ خمار مستم
نہ من در خانۂ خمار مستم
انا الحق گویم و بردار مستم
میں مے فروش کے گھر میں کوئی عام سرشار نہیں ہوں،
میں ’انَا الحق‘ کہنے والا ہوں اور سولی پر چڑھا ہوا ہوں۔
بہ مستی چوں بہ سویم یار آمد
من از خود رفتم و با یار مستم
سرمستی کے عالم میں جب میرا یار میرے پاس آیا،
تو میں خود سے بے خبر ہو گیا، اور یار کے ساتھ مگن ہو گیا۔
زدم بر سنگ مستی شیشۂ ننگ
میان کوچہ و بازار مستم
مدہوشی میں میں نے رسوائی کے شیشے کو پتھر پر دے مارا،
اب میں گلی کوچوں اور بازاروں میں بھی سرشار پھرتا ہوں۔
شمارم ہر نفس را ساغر مے
کشم من ہر دم و ہر بار مستم
میں ہر لمحہ شراب کے پیالے کو شمار کرتا رہتا ہوں،
ہر آن خود کو مٹاتا ہوں، اور ہر بار سرشار ہو جاتا ہوں۔
نمی دانم ز جنت من نشانے
بہ زیر سایۂ دیوار مستم
مجھے جنت کی کوئی پہچان یا علامت معلوم نہیں،
میں تو دیوار کے سائے تلے ہی مست ہوں۔
بہ مدہوشی دل و دیں رفت کیفیؔ
ز جام ساقیٔ عیار مستم
اے ’کیفی‘! اس مدہوشی میں دل بھی گیا اور دین بھی،
میں اس عیار ساقی کے جام سے سرشار ہوں۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 274)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.