نخستیں بادہ کاندر جام کردند
نخستیں بادہ کاندر جام کردند
ز چشم مست ساقی وام کردند
جو پہلی مے جام میں ڈالی گئی تھی
وہ ساقی کی مست آنکھوں سے اُدھار لی گئی تھی۔
بعالم ہر کجا درد و بلا بود
بہم کردند و عشقش نام کردند
دنیا میں جہاں کہیں بھی درد و غم تھا، ان سب کو اکٹھا کر کے ان کا نام عشق رکھ دیا گیا۔
چو گوئے حسن در میداں نہادند
بہ یک چوگاں دو عالم رام کردند
جب حسن کا گیند میدان میں رکھ دیا گیا
تو ایک ہی چوگان سے دونوں جہاں مسخر کر لیے گئے۔
چو خود کردند سر خویشتن فاش
عراقیؔ را چرا بدنام کردند
جب خود ہی اپنا راز فاش کر دیا تو، پھر عراقی کو کیوں بدنام کیا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.