Font by Mehr Nastaliq Web

نمی دانم کہ آخر چوں دم دیدار می رقصم

حکیم نذر اشرف اشرفی

نمی دانم کہ آخر چوں دم دیدار می رقصم

حکیم نذر اشرف اشرفی

MORE BYحکیم نذر اشرف اشرفی

    دلچسپ معلومات

    حکیم سید نذر اشرف فاضلؔ کچھوچھوی کی یہ غزل معرکۃُ الآرا اور اپنی فنی و معنوی خصوصیات میں بے مثل ہے۔ اس کی غیر معمولی عوامی مقبولیت اور آستانوں میں محفلِ سماع کی مستقل زینت بن جانے نے اسے کسی تعارف یا مداحی کا محتاج نہیں رہنے دیا۔ یہ پُرکیف نظم خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ایک نظم کے اتباع میں بہار کے ضلع بھاگل پور میں تخلیق ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بجلی کی طرح پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ بعد ازاں قوالوں کی معمولی مگر مسلسل تحریفات کے باعث اگرچہ اس غزل کی اصل صورت میں تبدیلی آ گئی، چند اشعار خلط ملط ہو گئے، حتیٰ کہ تخلص تک بدل دیا گیا، تاہم اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آئی۔ نورالحسن مودودی صابری نے 1935ء میں اپنی کتاب نغماتِ سماع میں اسی غزل کو خواجہ عثمان ہارونیؒ کی طرف منسوب کیا، جس کے بعد یہ نسبت عام طور پر نقل ہونے لگی، حالانکہ اس سے قبل یہ غزل فاضلؔ کچھوچھوی کے نام سے خاصی مقبول ہو چکی تھی۔

    نمی دانم کہ آخر چوں دم دیدار می رقصم

    مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیش یار می رقصم

    مجھے کچھ خبر نہیں کہ آخر محبوب کو دیکھتے ہی میں رقص کیوں کر رہا ہوں لیکن پھر بھی مجھےاپنی اس خوش ذوقی پر ناز ہے کہ میں اپنے محبوب کے سامنے رقص کر رہا ہوں۔

    نگاہش جانب من چشم من محو تماشایش

    منم دیوانہ لیکن با دل ہشیار می رقصم

    اس کی نگاہ میری طرف ہے اور میری نظر اسے دیکھنے میں مصروف ہے، میں دیوانہ ہوگیا ہوں لیکن ہوشیار دل کے ساتھ رقص کر رہا ہوں۔

    زہے رندے کہ پامالش کنم صد پارسائی را

    خوشا تقویٰ کہ من با جبہ و دستار می رقصم

    کیسی اچھی وہ رندی ہے کہ سیکڑوں پارسائی کو پامال کرتی ہے، کیا خوب تقویٰ ہے کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ رقص میں ہوں (یعنی جبہ و دستار اہل تقویٰ کی علامت ہے اور رقص رندوں کا طریقہ ہے لیکن محبت میں بے خودی کا یہ عالم ہے کہ جبہ و دستار کی اہمیت بھی باقی نہ رہی

    بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جاں بازاں

    بصد سامان رسوائی سر بازار می رقصم

    اے معشوق! آ دیکھ کہ جانبازوں کے اس مجمع میں بصد سامان رسوائی میں رقص کر رہا ہوں۔

    تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون من ریزی

    من آں بسمل کہ زیر خنجر خونخوار می رقصم

    تو وہ قاتل ہے کہ برائے تماشا میرا خون بہانا چاہتا ہے، اور میں وہ بسمل ہوں جو خنجرِ خونخوار کے نیچے رقص کر رہاہوں۔

    تپش چوں حالتے آرد بروئے شعلہ می غلطم

    خلش چوں لذتے بخشد بہ نوک خار می رقصم

    تپش کی وجہ سے میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ گویا میں شعلہ کے اوپر لوٹ رہا ہوں, خلش کی وجہ سے مجھے ایک ایسی لذت مل رہی ہے کہ میں کانٹے کی نوک پر رقص کر رہا ہوں۔

    زہے رنگ تماشایش خوشا ذوق دلم فاضلؔ

    کہ می بیند چو او یک بار من صد بار می رقصم

    اس کے تماشے کے رنگ کا کیا کہنا اور اے فاضلؔ میرے ذوقِ دل کا کیا کہنا، وہ مجھے ایک بار دیکھتا ہے اور میں سیکڑوں بار رقص کرتا ہوں۔

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نصرت فتح علی خان

    نصرت فتح علی خان

    فرید ایاز

    فرید ایاز

    مأخذ :
    • کتاب : Qand-e-Parsi (Guldasta-e-Fazil) (Pg. 160)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے