Font by Mehr Nastaliq Web

پیش از ظہور جلوۂ جانانہ سوختیم

حزیں زید پوری

پیش از ظہور جلوۂ جانانہ سوختیم

حزیں زید پوری

MORE BYحزیں زید پوری

    پیش از ظہور جلوۂ جانانہ سوختیم

    آتش بہ سنگ بود کہ ما خانہ سوختیم

    معشوق کو دیکھنے سے پہلے ہی ہم جل گئے،

    آگ تو ابھی پتھر میں تھی کہ ہم نے اپنا گھر جلا دیا۔

    لب نا چشیدہ از نفس آتشین خویش

    چوں داغ لالہ بادہ بہ پیمانہ سوختیم

    نفس اپنی ہی آگ سے ناواقف تھا،

    ہم نے لالہ کے داغ کی طرح شراب کو پیمانے میں جلا دیا۔

    دل بودہ است محفل شمع طراز ما

    خود را عبث بہ کعبہ و بت خانہ سوختیم

    میرا دل محفل کی شمع بن گیا،

    ہم نے خود کو یونہی کعبہ و بت خانے میں جلا دیا۔

    یک شعلہ برق خرمن دل ہا بود ولے

    ما گر بطرز سازش پروانہ سوختیم

    دل کے کھیت کے لیے بجلی کی ایک چنگاری ہی کافی تھی،

    مگر ہم نے خود کو پروانے کی طرح جلا ڈالا۔

    خواہم حزیںؔ ز مصرع وحدت بہ دیدہ سوخت

    ما خود نفس ز گفتن افسانہ سوختیم

    اے حزیں! میں وحدت کے لفظوں کو اپنی آنکھوں میں جلا ڈالوں گا،

    ہم نے خود کو کہانیاں کہنے میں ہی جلا دیا۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات سماع (Pg. 231)
    • مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے