پیش از ظہور جلوۂ جانانہ سوختیم
پیش از ظہور جلوۂ جانانہ سوختیم
آتش بہ سنگ بود کہ ما خانہ سوختیم
معشوق کو دیکھنے سے پہلے ہی ہم جل گئے،
آگ تو ابھی پتھر میں تھی کہ ہم نے اپنا گھر جلا دیا۔
لب نا چشیدہ از نفس آتشین خویش
چوں داغ لالہ بادہ بہ پیمانہ سوختیم
نفس اپنی ہی آگ سے ناواقف تھا،
ہم نے لالہ کے داغ کی طرح شراب کو پیمانے میں جلا دیا۔
دل بودہ است محفل شمع طراز ما
خود را عبث بہ کعبہ و بت خانہ سوختیم
میرا دل محفل کی شمع بن گیا،
ہم نے خود کو یونہی کعبہ و بت خانے میں جلا دیا۔
یک شعلہ برق خرمن دل ہا بود ولے
ما گر بطرز سازش پروانہ سوختیم
دل کے کھیت کے لیے بجلی کی ایک چنگاری ہی کافی تھی،
مگر ہم نے خود کو پروانے کی طرح جلا ڈالا۔
خواہم حزیںؔ ز مصرع وحدت بہ دیدہ سوخت
ما خود نفس ز گفتن افسانہ سوختیم
اے حزیں! میں وحدت کے لفظوں کو اپنی آنکھوں میں جلا ڈالوں گا،
ہم نے خود کو کہانیاں کہنے میں ہی جلا دیا۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 231)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.