شمارِ شوق ندانستہ ام کہ تا چند است
جز ایں قدر کہ دلم سخت آرزو مند است
مجھے اپنے اشتیاق کا حساب کتاب معلوم نہیں کہ کتنا ہے، بس اتنا ہی جانتا ہوں کہ میرا دل شدید آرزو رکھتا ہے۔
ادائے حقِ محبت عنایتی ست ز دوست
وگر نہ خاطرِ عاشق بہ ہیچ خرسند است
محبوب اگر محبت کے حقوق کا لحاظ رکھتا ہے تو یہ اس کی عنایت ہے، ورنہ عاشق کا دل تو ایسی کسی لحاظ داری کے بغیر بھی راضی خوش ہے۔
بہ کیشِ صدق و صفا حرفِ عہد بیکار است
نگاہِ اہلِ محبت تمام سوگند است
صدق و صفا کے مسلک میں وعدے اور یقین دہانیاں بے کار ہیں، محبت کرنے والوں کی نگاہیں ہی سراپا قَسم ہوتی ہیں۔
نہ زلف دانم و نے خال، ایں قدر دانم
کہ پائے تا بہ سرم ہرچہ ہست، در بند است
نہ مجھے زلفوں کا کچھ پتا ہے، نہ ہی تِل کی کوئی خبر، بس اتنا جانتا ہوں کہ سر سے پاؤں تک میرا جو کچھ بھی ہے، پھندے میں جکڑا ہوا ہے۔
مرا فروخت محبت ولی ندانستم
کہ مشتری چہ کس است و بہائے من چند است
محبت نے مجھے بیچ ڈالا لیکن مجھے یہ تک معلوم نہ ہوا کہ میرا گاہک کون ہے اور قیمت کیا لگی ہے۔
ازاں خوشم بہ نوا ہائے دل کشِ تو رحیمؔ
کہ اندکی بہ ادا ہائے دوست مانند است
رحیمؔ مجھے تمہارا دلکش کلام اس لیے اچھا لگتا ہے کہ یہ کچھ کچھ محبوب کی اداؤں جیسا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.