روزگاریست کہ سودائے بتاں دین من است
غم ایں کار نشاط دل غمگین من است
ایک عرصہ سے بتوں کا عشق میرا دین ہے۔ اس بات کا غم، غمگین دل کی خوشی ہے۔
دیدن روئے تو را دیدن جان بیں باید
ویں کجا مرتبۂ چشم جہاں بین من است
تیرا چہرہ دیکھنے کے لئے جان کی آنکھ چاہئے۔ اور میری دنیا دیکھنے والی آنکھ کا یہ مرتبہ کہاں ہے۔
رسم عاشق کشی و شیوۂ شہر آشوبی
کار آں شوخ سیہ چردۂ شیرین من است
عاشق کو قتل کرنے کی رسم اور شر کو فتنہ میں ڈالنے کی عادت میرے میٹھے، ملیح شوخ کا کارنامہ ہے
یا رب ایں کعبہ مقصود زیارت گہے کیست
کہ مغیلان طریقش گل و نسرین من است
اے خدا یہ کعبہ مقصود کس کی زیارت گاہ ہے۔ کہ اس کے راستے کے کیکر میرے لئے گل و نسرین ہیں۔
دولت فقر خدایا بمن ارزانی دار
کیں کرامت سبب حشمت و تمکین من است
اے خدا مجھے فقر کی دولت عنایت فرما دے۔ اس لئے کہ یہ عزت میری دولت و قار کا سبب ہے۔
حافظؔ از حشمت پرویز دگر قصہ مخواں
کہ لبش جرعہ کش خسرو شیرن من است
اے حافظ! پرویز کے دبدبہ کی وجہ سے مزید قصے بیان کر۔ اس لئے کہ اس کے ہونٹ میرے شیریں خسرو سے گھونٹ حاصل کرنے والے ہیں۔
- کتاب : دیوان حافظ (Pg. 77)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.