Font by Mehr Nastaliq Web

روزگاریست کہ سودائے بتاں دین من است

حافظ

روزگاریست کہ سودائے بتاں دین من است

حافظ

MORE BYحافظ

    روزگاریست کہ سودائے بتاں دین من است

    غم ایں کار نشاط دل غمگین من است

    ایک عرصہ سے بتوں کا عشق میرا دین ہے۔ اس بات کا غم، غمگین دل کی خوشی ہے۔

    دیدن روئے تو را دیدن‌ جان بیں باید

    ویں کجا مرتبۂ چشم جہاں بین من است

    تیرا چہرہ دیکھنے کے لئے جان کی آنکھ چاہئے۔ اور میری دنیا دیکھنے والی آنکھ کا یہ مرتبہ کہاں ہے۔

    رسم عاشق کشی و شیوۂ شہر آشوبی

    کار آں شوخ سیہ چردۂ شیرین من است

    عاشق کو قتل کرنے کی رسم اور شر کو فتنہ میں ڈالنے کی عادت میرے میٹھے، ملیح شوخ کا کارنامہ ہے

    یا رب ایں کعبہ مقصود زیارت گہے کیست

    کہ مغیلان طریقش گل و نسرین من است

    اے خدا یہ کعبہ مقصود کس کی زیارت گاہ ہے۔ کہ اس کے راستے کے کیکر میرے لئے گل و نسرین ہیں۔

    دولت فقر خدایا بمن ارزانی دار

    کیں کرامت سبب حشمت و تمکین من است

    اے خدا مجھے فقر کی دولت عنایت فرما دے۔ اس لئے کہ یہ عزت میری دولت و قار کا سبب ہے۔

    حافظؔ از حشمت پرویز دگر قصہ مخواں

    کہ لبش جرعہ کش خسرو شیرن من است

    اے حافظ! پرویز کے دبدبہ کی وجہ سے مزید قصے بیان کر۔ اس لئے کہ اس کے ہونٹ میرے شیریں خسرو سے گھونٹ حاصل کرنے والے ہیں۔

    مأخذ :
    • کتاب : دیوان حافظ (Pg. 77)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے