صنما رہ قلندر سزد ار بمن نمائی
صنما رہ قلندر سزد ار بمن نمائی
کہ دراز و دور دیدم رہ و رسم پار سائی
اے صنم! اگر تو اپنا جلوہ دکھا دے تو قندروں جیسی زندگی ہی بہتر ہے، کیونکہ پاکیزگی کی راہ طویل اور دشوار ہے۔
بطواف کعبہ رفتم بحرم گزر ندادند
کہ برون در چہ کردی کہ درون خانہ آئی
میں کعبے کا طواف کرنے گیا، لیکن مجھے حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملی۔ مجھے کہا گیا کہ دروازے کے باہر، تم نے کیا کیا ہے کہ تم اندر آنا چاہتے ہو؟۔
بہ زمیں چو سجدہ کردم ز زمیں ندا بر آمد
کہ مرا خراب کردی تو بہ سجدۂ ریائی
جب میں نے زمین پر سجدہ کیا تو زمین سے آواز آئی
کہ تم نے ریا کے لیے سجدہ کیا اور مجھے برباد کر دیا۔
نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
دشمن کا نصیب کہاں ہے کہ وہ تیری تلوار سے مر جائے،
دوستوں کا سر سلامت ہے، تو خنجر چلاتا جا۔
در دیر چوں زدم من ز دروں ندا بر آمد
کہ بیا بیا عراقیؔ تو ز خاصگان مائی
جب میں نے بت خانے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے آواز آئی
اے عراقیؔ اندر آ جا کیونکہ تو ہمارا خاص آدمی ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 295)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.