Font by Mehr Nastaliq Web

شد اسیر غمزۂ چشم محمد جان من

نصر پھلواروی

شد اسیر غمزۂ چشم محمد جان من

نصر پھلواروی

MORE BYنصر پھلواروی

    دلچسپ معلومات

    اس غزل کا مطلع اول پیر مجیب اللہ قادری کی غزل میں بھی پایا جاتا ہے، بعید نہیں کہ علی حبیب نصرؔ نے اسے بطورِ تبرک اختیار کیا ہو۔

    شد اسیر غمزۂ چشم محمد جان من

    لطف فرما کن تبسم اے دل و ایمان من

    (یہ پہلا شعر پیر مجیب اللہ قادری کا ہے) محمد کے غمزۂ چشم (گوشۂ چشم سے دیکھنے کی عادت) میں میری جان اسیر ہوگئی، مہربانی فرمائیے تبسم کے ساتھ، اے میرے دل و ایمان۔

    از تو میدارم امیدے یا شفیع المذنبیں

    چاک‌ فرمائی ز رحمت نامۂ عصیان من

    آپ سے ہی امید ہے اے شفیع المذنبیں کہ اپنی رحمت سے میرے گناہوں کے دفتر کو چاک فرما دیجیے۔

    داغ عصیانم ز آب رحمت خود پاک کن

    تابکے آلودۂ عصیاں بود دامان من

    اپنی رحمت کی چھینٹوں سے میرے گناہوں کے داغ کو صاف کر دیجیے، کب تک میرے دامن گناہوں سے آلودہ رہیں گے۔

    نصرؔ را ہم در طفیل حضرت پیر مجیب

    یاد کن در بزم خود اے آرزوئے جان من

    نصرؔ کو بھی پیر مجیب کے طفیل، اپنی بزم میں اے آرزوئے جان من! یاد فرمایئے۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 266)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے