شد اسیر غمزۂ چشم محمد جان من
دلچسپ معلومات
اس غزل کا مطلع اول پیر مجیب اللہ قادری کی غزل میں بھی پایا جاتا ہے، بعید نہیں کہ علی حبیب نصرؔ نے اسے بطورِ تبرک اختیار کیا ہو۔
شد اسیر غمزۂ چشم محمد جان من
لطف فرما کن تبسم اے دل و ایمان من
(یہ پہلا شعر پیر مجیب اللہ قادری کا ہے) محمد کے غمزۂ چشم (گوشۂ چشم سے دیکھنے کی عادت) میں میری جان اسیر ہوگئی، مہربانی فرمائیے تبسم کے ساتھ، اے میرے دل و ایمان۔
از تو میدارم امیدے یا شفیع المذنبیں
چاک فرمائی ز رحمت نامۂ عصیان من
آپ سے ہی امید ہے اے شفیع المذنبیں کہ اپنی رحمت سے میرے گناہوں کے دفتر کو چاک فرما دیجیے۔
داغ عصیانم ز آب رحمت خود پاک کن
تابکے آلودۂ عصیاں بود دامان من
اپنی رحمت کی چھینٹوں سے میرے گناہوں کے داغ کو صاف کر دیجیے، کب تک میرے دامن گناہوں سے آلودہ رہیں گے۔
نصرؔ را ہم در طفیل حضرت پیر مجیب
یاد کن در بزم خود اے آرزوئے جان من
نصرؔ کو بھی پیر مجیب کے طفیل، اپنی بزم میں اے آرزوئے جان من! یاد فرمایئے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 266)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.