Font by Mehr Nastaliq Web

تا نظر افتاد بر رخسار نیکوئے کسے

غلام حسن بیتھوی

تا نظر افتاد بر رخسار نیکوئے کسے

غلام حسن بیتھوی

MORE BYغلام حسن بیتھوی

    تا نظر افتاد بر رخسار نیکوئے کسے

    وا نمی گردد دو چشم باز بر روئے کسے

    جب سے نظر کسی حسین کے رخسار پر پڑی ہے، میری یہ دو آنکھیں اب کسی اور کے چہرے کی طرف نہیں جاتیں۔

    گرچہ من از خود فراموشم ولے دارم بہ یاد

    ہر سحر روئے کسے ہر شام گیسوئے کسے

    گرچہ میں نے خود کو فراموش کر دیا ہے لیکن مجھے اب بھی کسی کے چہرے اور کسی کے گیسو میں بسر ہوئے صبح و شام کے اوقات یاد ہیں۔

    از ہمہ تن آہ گردیدہ است در صحن‌ چمن

    سرو می دارد ہوائے قد دل جوئے کسے

    صحنِ چمن پورے بدن کی آہ سے معمور ہے، سرو بھی کسی کے دل لبھانے والے قد پر فدا ہے۔

    در گلستان جہاں از غنچہ و گل ہا حسنؔ

    می رسد اندر دماغ عاشقاں بوئے کسے

    اے حسنؔ دنیا کے باغ میں پھول اور غنچوں کی مہک، کسی عاشق کے دماغ کو معطر کر رہی ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے