تعالی اللہ چہ دولت دارم امشب
کہ آمد ناگہاں دل دارم امشب
اللہ اکبرآج کی رات مجھے کیا دولت ملی ہے،
کہ آج کی رات اچانک میرا معشوق آ گیا۔
چو دیدم روئے خوبش سجدہ کردم
بحمداللہ نیکو کردارم امشب
جب میں نے اُس کا حسین چہرہ دیکھا تو سجدہ کیا،
بحمداللہ میں آج کی رات نیکوکار ہوں۔
نہال عیشم از وصلش بر آورد
ز بخت خویش بر خوردارم امشب
میری زندگی کے پودے نے اس کے وصل کا پھل دیا،
میں آج کی رات اپنے نصیبہ سے بہرہ ور ہوں
کشد نقش انا الحق بر زمیں خو
چو منصور ار کشی بردارم امشب
خون زمین پر پڑا انا الحق کا نقش کھینچ دیگا
اگر آج کی رات منصور کی طرح تو مجھے سولی پر چڑھا دے گا
برات لیلۃ القدرے بہ دستم
رسید از طالع بیدارم امشب
لیلۃ القدر کا ثواب مجھے آج کی رات،
میرے جاگتے ہوئے نصیبہ کی وجہ سے مل گیا۔
تو صاحب نعمتی من مستحقم
زکاۃ حسن دہ حق دارم امشب
تو نعمت وا لا ہے اور میں مستحق ہوں
حسن کی زکوٰۃ دے، آج کی رات مجھے اس کا حق ہے۔
ہمی ترسم کہ حافظؔ محو گردد
از ایں شورے کہ در سر دارم امشب
مجھے ڈر ہے کہ حافظؔ محو ہو جائے گا،
اس شور سے جو آج کی رات میرے سر میں ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.