رخ بنما کہ اے پری صبح امید من توئی
دلچسپ معلومات
’’نغماتِ سماع‘‘ کے حوالے سے یہ غزل خانقاہ معظم، بہار شریف کے حضرت شاہ محمد شفیع فردوسی کی بتائی جاتی ہے جب کہ بعض کا یہ کہنا ہے کہ شیخ جمال الدین احمد ہانسوی نے اپنے پیرومرشد بابا فریدالدین گنجِ شکر کی طرف خیال کرتے ہوئے لکھا تھا۔
رخ بنما کہ اے پری صبح امید من توئی
برقع کشا کہ اے صنم جلوۂ عید من توئی
اے پری چہرہ! اپنا رخ تو دکھاؤ کہ تم ہی میری امید کی صبح ہو۔
اے محبوب! اپنا نقاب تو اٹھاؤ کہ تم ہی میری خوشی اور عید کا جمال ہو۔
ہر سخنے کہ می کنی جاں بحلاوت آیدم
گنج شکر بہ زیر لب فرید من توئی
تم جو بھی بات کرتے ہو، وہ میری جان کو مٹھاس سے بھر دیتی ہے۔
میرے لبوں کے نیچے چھپا ہوا شکر کا خزانہ، اے فرید! وہ تم ہی ہو۔
شکوہ ز دہر چوں کنم رنج ز چرخ چوں برم
ایکہ ز فضل ایزدی بخت سعید من توئی
میں دنیا سے شکایت کیسے کروں؟ فلک کے رنج کیسے بیان کروں؟
اللہ کے فضل سے میرا نیک نصیب اور میری سعادت تم ہی ہو۔
بخت شدہ بہ کام من گشت مراد حاصلم
تا سگ کوئے تو مرا گفت مرید من توئی
میری قسمت میری مراد کے مطابق ہو گئی، میری تمنا پوری ہو گئی،
جب تم نے مجھے اپنی گلی کا ادنیٰ سا کتا کہا اور فرمایا کہ تم میرے مرید ہو۔
در تن من ہزار جاں رقص کناں بر آمدہ
یار مرا چو اے شفیعؔ گفت شہید من توئی
میرے جسم میں یوں لگا جیسے ہزار جانیں خوشی میں رقص کر رہی ہوں،جب میرے یار نے، اے شفیعؔ! مجھ سے فرمایا کہ تو میرا شہید ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 323)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.