Font by Mehr Nastaliq Web

زہے حسنے کہ روئے یار دارد

بو علی شاہ قلندر

زہے حسنے کہ روئے یار دارد

بو علی شاہ قلندر

MORE BYبو علی شاہ قلندر

    زہے حسنے کہ روئے یار دارد

    کہ در آغوش صد گلزار دارد

    میرے محبوب کے حسن کا کیا کہنا، اس کی آغوش میں سیکڑوں چمن کھل اٹھے ہیں۔

    سر زلفش کہ مست و لا ابالی

    کمیں گاہ دل ہشیار دارد

    اس کی مست و بے پرواہ زلف کے اسیر ہو کر سیکڑوں ہشیار دل ہو گئے ہیں۔

    بسے مرداں ز کار افتادہ بینی

    بداں چشمے کہ او بیمار دارد

    ان بیمار آنکھوں نے بہت لوگوں کو گھائل کر ڈالا ہے۔

    ہر آں سطرے کے بر رویش نوشتند

    ہزاراں معنی و اسرار دارد

    آپ اس کے ماتھے پر جو بھی لکھینگے، اس کے ہزاروں معنی نکل سکتے ہیں۔

    دلم در یاد مژگانت چناں است

    کہ می خواہد سرے بر دار دارد

    تمہاری پلکوں کی یاد میں میرا دل چاہتا ہے کہ میں خود کو سولی پر چڑھا دوں۔

    شرفؔ در عشق او گشت آں قلندرؔ

    کہ ہفتاد و دو ملت یار دارد

    شرف اس کے عشق میں ایسا قلندر ہو چکا ہے کہ پورا ملک ہندوستان اسے یار کی صورت میں نظر آتا ہے۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات سماع (Pg. 151)
    • مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے