زہے حسنے کہ روئے یار دارد
زہے حسنے کہ روئے یار دارد
کہ در آغوش صد گلزار دارد
میرے محبوب کے حسن کا کیا کہنا، اس کی آغوش میں سیکڑوں چمن کھل اٹھے ہیں۔
سر زلفش کہ مست و لا ابالی
کمیں گاہ دل ہشیار دارد
اس کی مست و بے پرواہ زلف کے اسیر ہو کر سیکڑوں ہشیار دل ہو گئے ہیں۔
بسے مرداں ز کار افتادہ بینی
بداں چشمے کہ او بیمار دارد
ان بیمار آنکھوں نے بہت لوگوں کو گھائل کر ڈالا ہے۔
ہر آں سطرے کے بر رویش نوشتند
ہزاراں معنی و اسرار دارد
آپ اس کے ماتھے پر جو بھی لکھینگے، اس کے ہزاروں معنی نکل سکتے ہیں۔
دلم در یاد مژگانت چناں است
کہ می خواہد سرے بر دار دارد
تمہاری پلکوں کی یاد میں میرا دل چاہتا ہے کہ میں خود کو سولی پر چڑھا دوں۔
شرفؔ در عشق او گشت آں قلندرؔ
کہ ہفتاد و دو ملت یار دارد
شرف اس کے عشق میں ایسا قلندر ہو چکا ہے کہ پورا ملک ہندوستان اسے یار کی صورت میں نظر آتا ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 151)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.