Font by Mehr Nastaliq Web

ذرہ وارم بہ گرد کوئے مجیب

نصر پھلواروی

ذرہ وارم بہ گرد کوئے مجیب

نصر پھلواروی

MORE BYنصر پھلواروی

    ذرہ وارم بہ گرد کوئے مجیب

    آفتاب منست روئے مجیب

    حضرت پیر مجیب کی گلی کے گرد میں ایک ذرے کی طرح ہوں، پیر مجیب کا چہرہ میرے لئے آفتاب ہے (یعنی میں اس آفتاب کا ایک ذرہ ہوں)۔

    جائے ہوش و خرد نماند بہ سر

    در سر ماست ہا و ہوئے مجیب

    ہوش وخرد سے میں گذرا ہوا ہوں، اب سر میں پیر مجیب کی محبت کا سودا ہے (یعنی پیر مجیب کے فیوض باطنی نے مجھ کو ظاہر سے بے گانہ اور باطن سے آشنا کردیا ہے)۔

    گردش چشم ما بہ کس نبود

    ہمچو قبلہ نماست سوئے مجیب

    ہماری نگاہیں گھوم پھر کر حضرت پیر مجیب کی طرف ہی جاتی ہیں کسی اور کی طرف نہیں دیکھتی ہیں، جس طرح قبلہ نما کی سوئی کیسی بھی گھمائی جائے بالآخر اس کا رخ قبلہ ہی کی طرف ہوتا ہے (یعنی میرے لئے ان کی ذات بہ لحاظ طریقت و ارادت مرجع و مآب کی حیثیت رکھتی ہے)۔

    عاشقانند و وصل معشوقاں

    نصرؔ مائیم و جستجوئے مجیب

    عاشق تو اپنے محبوب کے وصال میں مشغول ہیں،

    اور اے نصرؔ ہم مجیب کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 150)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے