ذرہ وارم بہ گرد کوئے مجیب
ذرہ وارم بہ گرد کوئے مجیب
آفتاب منست روئے مجیب
حضرت پیر مجیب کی گلی کے گرد میں ایک ذرے کی طرح ہوں، پیر مجیب کا چہرہ میرے لئے آفتاب ہے (یعنی میں اس آفتاب کا ایک ذرہ ہوں)۔
جائے ہوش و خرد نماند بہ سر
در سر ماست ہا و ہوئے مجیب
ہوش وخرد سے میں گذرا ہوا ہوں، اب سر میں پیر مجیب کی محبت کا سودا ہے (یعنی پیر مجیب کے فیوض باطنی نے مجھ کو ظاہر سے بے گانہ اور باطن سے آشنا کردیا ہے)۔
گردش چشم ما بہ کس نبود
ہمچو قبلہ نماست سوئے مجیب
ہماری نگاہیں گھوم پھر کر حضرت پیر مجیب کی طرف ہی جاتی ہیں کسی اور کی طرف نہیں دیکھتی ہیں، جس طرح قبلہ نما کی سوئی کیسی بھی گھمائی جائے بالآخر اس کا رخ قبلہ ہی کی طرف ہوتا ہے (یعنی میرے لئے ان کی ذات بہ لحاظ طریقت و ارادت مرجع و مآب کی حیثیت رکھتی ہے)۔
عاشقانند و وصل معشوقاں
نصرؔ مائیم و جستجوئے مجیب
عاشق تو اپنے محبوب کے وصال میں مشغول ہیں،
اور اے نصرؔ ہم مجیب کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 150)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.