دل کہ بد زحمت فزایت رفت گرہاں غم مخور
دلچسپ معلومات
یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، فارسی مصرعِ طرح „یوسف گم گشتہ باز آید ز کنعان غم مخور“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔
دل کہ بد زحمت فزایت رفت گرہاں غم مخور
رشک خورشید سینہ از تصویر جاناں غم مخور
بلبل نالاں چرا فریاد برپا می کنی
می رسد فصل گل و جوش بہاراں غم مخور
جلوۂ جاناں بہمرازی اندوہت خوش است
یوسفی داری دریں زندانِ حرماں غم مخور
وحشتت تشریف عریانی ببردارد مگر
پردہ پوشی راست دامان بیاباں غم مخور
مرقدت منت کش شمع و چراغانست بدرؔ
داغہائے دل شود مہر درخشاں غم مخور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.