ما قلندر مشرباں را رسم و راہے دیگر است
ما قلندر مشرباں را رسم و راہے دیگر است
خاکساراں را دریں رہ عز و جاہے دیگر است
ہم قلندر مشربوں کی رسم و راہ دوسری ہے خاکساروں کی عزت و جاہ اس راہ میں دوسری ہے (قلندر مشرب سے سلسلہ قلندریہ کی نسبت مراد ہے جو حضرت فرد کو حاصل تھی، معنوی اعتبار سے وارفتہ صوفی مراد ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اس راہ قلندری میں اعمال ظاہری کے رسوم سے کم اور باطنی امور کی طرف توجہ زیادہ ہے، اس رہ قلندری میں خاکساروں کی جو عزت ہے وہ دینوی عز و جاہ سے مختلف ہے)۔
باختن جاں در قمار عشق باشد طاعتم
طاعت ایں جا دیگر و جرم و گناہے دیگر است
عشق کے جوئے میں جان ہارنا میری طاعت ہے، یہاں طاعت دوسری یہاں جرم و گناہ دوسرے ہیں (عشق کو جوئے سے تعبیر کیا ہے۔ جوئے میں رقم ہارتے ہیں، عشق میں زندگی۔ زندگی کی حفاظت شرعا ضروری ہے، اور اس کے خلاف کرنا جرم و گناہ ہے، لیکن عشقِ حقیقی میں سرمایۂ زندگی ہار جانا جرم نہیں طاعت ہے، اس لئے وہ قلندری ایسی راہ ہے کہ یہاں طاعت کا مفہوم اور جرم و گناہ کا معنی مختلف ہے)۔
جبہ و دستار رہن بادہ کردن دین ماست
رند از کوئے مغانم سجدہ گاہے دیگر است
جبہ و دستار کو یعنی زہد و تقویٰ کو شرابِ عشق کے عوض گروی کر دینا ہمارا مذہب ہے، میں رند ہوں اور مغاں کے کوچہ میرے لئے دوسری سجدہ گاہ ہے۔
کاروبارم دیگر و با زاہد و شیخم چہ کار
کعبۂ ما از در دولت پناہے دیگر است
میرا مشغلہ دوسرا ہے مجھے زاہد و شیخ سے کیا مطلب؟ میرا قبلہ اور میرا کعبہ کسی اور کا دولت پناہ آستانہ ہے (یعنی میں اپنے مشغلۂ عشق حقیقی میں ریا سے دور ہوں، اور میں نے آستانۂ نبو کو اپنا ملجا بنا لیا ہے)۔
سوختم در یک نفس ہر نقد و جنس دو جہاں
برق خرمن سوز ہستی فردؔ آہے دیگر است
میں نے عشق کی آتش جوالہ میں اپنے دونوں جہان کے مال و متاع کو پھونک ڈالا ہے اور فرد اب خرمن کو جلا ڈالنے والی بجلی ہے، جس کی آہ و فغاں مختلف ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 164)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.