چشم و نظر بروئے تو ہر لب و گفتگوئے تو
چشم و نظر بروئے تو ہر لب و گفتگوئے تو
دل ہمہ تن بسوئے تو جان و خیال کوئے تو
نگاہ و توجہ تیرے چہرے پر ہے اور ہر لب پر تیری ہی بات ہے، دل پورے طور پر تیری طرف متوجہ ہے جان و خیال تیری گلی کی طرف ہیں۔
در ہمہ سینہ راہ تو ہر دل و سوز و آہ تو
چشم و رخے چو ماہ تو ہر سروہا و ہوئے تو
تیری راہ ہر سینہ تک ہے (یعنی کوئی دل تیری یاد سے خالی نہیں) تیرا درد و سوز ہر دل میں ہے، تیری آنکھیں اور تیرا چہرہ چاند جیسا ہے اور ہر سر میں تیرا ہی سودا ہے۔
در دل و دیدہ جائے تو جان من و ہوائے تو
در بدرم برائے تو گشتہ ز غم چو موئے تو
دل و دیدہ میں تیرا مقام ہے میری جان ہے اور تیری تمنّا میں تیرے لئے بے خانماں ہو رہا ہوں اور تیرے عشق میں میرا حال تیری زلف کی طرح نزار ہے۔
ہر ہنرے کہ در تو ہست جملہ پسند عالم است
غیر ازیں کہ گشتہ است ہجر ز فردؔ خوئے تو
جو خوبی تجھ میں ہے وہ سب دنیا کے لئے پسندیدہ ہے، سوائے اس کے کہ فرد سے فراق و جدائی تیری عادت بن گئی ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 280)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.