Font by Mehr Nastaliq Web

چشم و نظر بروئے تو ہر لب و گفتگوئے تو

فرد پھلواروی

چشم و نظر بروئے تو ہر لب و گفتگوئے تو

فرد پھلواروی

MORE BYفرد پھلواروی

    چشم و نظر بروئے تو ہر لب و گفتگوئے تو

    دل ہمہ تن بسوئے تو جان و خیال کوئے تو

    نگاہ و توجہ تیرے چہرے پر ہے اور ہر لب پر تیری ہی بات ہے، دل پورے طور پر تیری طرف متوجہ ہے جان و خیال تیری گلی کی طرف ہیں۔

    در ہمہ سینہ راہ تو ہر دل و سوز و آہ تو

    چشم و رخے چو ماہ تو ہر سروہا و ہوئے تو

    تیری راہ ہر سینہ تک ہے (یعنی کوئی دل تیری یاد سے خالی نہیں) تیرا درد و سوز ہر دل میں ہے، تیری آنکھیں اور تیرا چہرہ چاند جیسا ہے اور ہر سر میں تیرا ہی سودا ہے۔

    در دل و دیدہ جائے تو جان من و ہوائے تو

    در بدرم برائے تو گشتہ ز غم چو موئے تو

    دل و دیدہ میں تیرا مقام ہے میری جان ہے اور تیری تمنّا میں تیرے لئے بے خانماں ہو رہا ہوں اور تیرے عشق میں میرا حال تیری زلف کی طرح نزار ہے۔

    ہر ہنرے کہ در تو ہست جملہ پسند عالم است

    غیر ازیں کہ گشتہ است ہجر ز فردؔ خوئے تو

    جو خوبی تجھ میں ہے وہ سب دنیا کے لئے پسندیدہ ہے، سوائے اس کے کہ فرد سے فراق و جدائی تیری عادت بن گئی ہے۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 280)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے