Sufinama

دفتر پنجم : گفتنِ خویشاوندان مجنوں را کہ حسنِ لیلیٰ باندازہ ایست، چنداں نیست از و نغز تر در شہرِ ما بسیار ست یکے و دو دہ برتو عرضہ کنیم اختیار کن و مارا و خود را وارہاں و جواب گفتنِ مجنوں ایشاں را

رومی

دفتر پنجم : گفتنِ خویشاوندان مجنوں را کہ حسنِ لیلیٰ باندازہ ایست، چنداں نیست از و نغز تر در شہرِ ما بسیار ست یکے و دو دہ برتو عرضہ کنیم اختیار کن و مارا و خود را وارہاں و جواب گفتنِ مجنوں ایشاں را

رومی

MORE BYرومی

    ابلھاں گفتند مجنوں را ز جہل

    حسن لیلیٰ نیست چنداں ہست سہل

    بے وقوفوں نے نادانی سے مجنوں سے کہا

    لیلیٰ کا حسن زیادہ نہیں ہے، معمولی ہے

    بہتر از وے صد ہزاراں دل ربا

    ہست ہم چوں ماہ اندر شہر ما

    اس سے زیادہ حسین لاکھوں معشوق

    ہمارے شہر میں چاند جیسے ہیں

    نازنیں تر زو ہزاراں حوروش

    ہست بگزیں جاں ہمہ یک بار خوش

    ہزاروں حوروں جیسے اس سے زیادہ ناز و انداز والے

    موجود ہیں، ان سب میں سے ایک حسین یار منتخب کرلے

    وارہاں خود را و ما را نیز ہم

    از چنیں سودائے زشت متہم

    اپنے آپ کو اور ہمیں بھی نجات دے

    ایسے برے متہم عشق سے

    گفت صورت کوزہ است و حسن مے

    مے خدایم می دہد از ظرف وے

    اس نے کہا صورت پیالہ ہے اور حسن شراب ہے

    مجھے اس کے پیالے سے خدا شراب پلاتا ہے

    مر شما را سر کہ داد از کوزہ اش

    تا نباشد عشق او تا گوش کش

    اس کے پیالے سے تمہیں سرکہ دیا ہے

    تاکہ اس کا عشق تمہارے کان نہ کھینچے

    از یکے کوزہ دہد زہر و عسل

    ہر یکے را دست حق عز و جل

    ایک ہی پیالے سے زہر اور شہد

    اللہ پاک کا ہاتھ ہرایک کو عطا کرتا ہے

    کوزہ می بینی و لیکن آں شراب

    روئے ننماید بہ چشمِ نا صواب

    تو پیالہ دیکھتا ہے لیکن وہ شراب

    غلط آنکھ کو چہرہ نہیں دکھاتی ہے

    قاصرات الطرف باشد ذوق جاں

    جز بہ خصم خود ننماید نشاں

    طبیعت کا ذوق، نظر کو روکنے والیوں میں سے ہے

    اپنے اہل کے سوا چہرہ نہیں دکھاتا ہے

    قاصرات الطرف باشد آں مدام

    ویں حجاب ظرف ہا ہم چو خیام

    وہ شراب، نظر کو روکنے والیوں میں سے ہے

    اور یہ پیالوں کا پردہ خیموں کی طرح ہے

    ہست دریا خیمۂ در وے حیات

    بط را لیکن کلاغاں را ممات

    دریا ایک خیمہ ہے، اس میں زندگی ہے

    بطخ کی لیکن کوؤں کی موت ہے

    زہر باشد مار را ہم قوت و برگ

    غیرِ او را زہرِ او در دست و مرگ

    زہر، سانپ کی روزی بھی ہے اور ساز سامان بھی

    اس کے غیر کے لئے اس کا زہر درد اور موت ہے

    صورتِ ہر نعمتے و محلتے

    ہست ایں را دوزخ آں را جنتے

    ہر نعمت اور محنت کی صورت

    اس کے لئے دوزخ ہے، اس کے لئے جنت ہے

    پس ہمہ اجسامِ اشیا تبصورن

    اندرو قوت ست وسم، لا تبصورن

    پس تم تمام چیزوں کے جسم دیکھتے ہو

    ان کے اندر روزی ہے اور زہر، تم نہیں دیکھتے ہو

    ہست ہر جسمے چو کاسۂ و کوزۂ

    اندرو ہم قوت و ہم دل سوزۂ

    ہر جسم، پیالے اور کٹورے کی طرح ہے

    اس میں روزی بھی ہے اور دل کا جلاوا بھی

    کاسہ پیدا اندرو پنہاں رغد

    طاعمش داند کزاں چہ می خورد

    پیالہ، ظاہر ہے اس میں خوش عیشی پوشیدہ ہے

    اس کا کھانے والا جانتا ہے کہ اس میں سے کیا کھا رہا ہے

    صورتِ یوسف چو جامے بود خوب

    زاں پدر می خورد صد بادہ طروب

    حضرت یوسف کی صورت ایک عمدہ جام تھی

    باپ اس سے سیکڑوں مست کرنے والی شرابیں پیتے تھے

    باز اخواں را ازاں زہراب بود

    کاندر ایشاں زہرِ کینہ می فزود

    پھر بھائیوں کے لئے اس میں زہریلا پانی تھا

    جو ان کے اندر کینے کا زہر بڑھا رہا تھا

    باز از وے مر زلیخا را شکر

    می کشید از عشق افیونِ دگر

    پھر اس میں سے زلیخا کے لئے شکر

    عشق کے ذریعہ دوسری افیون نکالتی تھی

    غیر آں چہ بود مر یعقوب را

    بود از یوسف غذا آں خوب را

    اس کے سوا جو حضرت یعقوب کے لئے تھی

    اس حسینہ کے لئے حضرت یوسف میں سے غذا تھی

    گونہ گونہ شربت و کوزہ یکے

    تا نماند در مئے غیبت شکے

    طرح طرح کی شرابیں ہیں اور پیالہ ایک ہے

    تا کہ تجھے غیب کی شراب میں شک نہ رہے

    بادہ از غیب ست کوزہ زیں جہاں

    کوزہ پیدا بادہ دروے بس نہاں

    شراب غیب کی ہے اور پیالہ اس جہان کا ہے

    پیالہ ظاہر ہے اس میں شراب بہت مخفی ہے

    بس نہاں از دیدۂ نامحرماں

    لیک برمحرم ہویدا و عیاں

    نا محرموں کی آنکھ سے بہت پوشیدہ ہے

    لیکن محرم پر، ظاہر اور کھلی ہوئی ہے

    یا الہی سُکّرت اَبصارُنا

    فاعفُ عنِّا اثقلت اوزارُنا

    اے میرے خدا ہماری بینائیاں مدہوش کردی گئی ہیں

    ہمیں معاف کر، ہمارے (گناہوں کے) بوجھ بھاری ہوگئے ہیں

    یا خفیّا قد مَلاتَ الخافقَین

    قد علوتَ فوق نورِ المشرقَین

    اے پوشیدہ ! تو نے مشرق و مغرب کو پر کر دیا ہے

    تو دونوں مشرقوں کے نور سے بڑھ گیا ہے

    انت سر کاشف اسرارَنا

    انت فجر مُفجِر انہارنا

    تو راز ہے، ہمارے بھیدوں کو کھولنے والا ہے

    تو صبح کا سفیدہ ہے، ہماری نہروں کو جاری کرنے والا ہے

    یا خفیَ الذات محسوسَ العطا

    انت کالماءِ و نحنُ کالرُّحا

    اے مخفی ذات والے، محسوس عطا والے

    تو پانی کی طرح اور ہم پن چکی کی طرح ہیں

    انت کالرّیحِ و نحنُ کالغبار

    یحتفنی الریحُ و غبراہُ جَہار

    تو ہوا کی طرح اور ہم غبار کی طرح ہیں

    ہوا پوشیدہ رہتی ہے اور اس کا غبار ظاہر ہے

    تو بہار ما چو باغِ سبز و خوش

    او نہان و آشکارا بخششش

    تو (موسم) بہار ہے ہم سبز اور خوش باغ کی طرح ہیں

    وہ پوشیدہ اور اس کی عطا کھلی ہوئی ہے

    تو چو جانے ما مثالِ دست و پا

    قبض و بسطِ دست از جاں شد روا

    تو جان کی طرح ہے ہم ہاتھ اور پاؤں کی طرح ہیں

    ہاتھ کا بند ہونا اور کھلنا، جان سے ممکن ہوا

    تو چو عقلی ما مثالِ ایں زباں

    ایں زباں از عقل دارد ایں بیاں

    تو عقل کی طرح ہے، ہم اس زبان جیسے ہیں

    اس زبان کو عقل سے بیان حاصل ہوا ہے

    تو مثالِ شادی و ما خندہ ایم

    کہ نتیجہ شادیِ فرخندہ ایم

    تو خوشی کی طرح ہے اور ہم ہنسی ہیں

    کیوں کہ ہم مبارک خوشی کا نتیجہ ہیں

    جنبش ما ہر دمے خود اشہدست

    کو گواہِ ذوالجلالِ سرمد ست

    ہماری حرکت ہر وقت خود بڑا گواہ ہے

    کیوں کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ذوالجلال کی گواہ ہے

    گردشِ سنگ آسیا در اضطراب

    اشہد آمد بر وجودِ جوئے آب

    پن چکی کے پتھر کی گردش، بے قراری میں

    نہر کے پانی پر بڑا گواہ بنی

    اے بروں از وہم وقال و قیلِ من

    خاک بر فرقِ من و تمثیلِ من

    اے وہ ! جو کہ میرے وہم اور بات چیت سے باہر ہے

    میری سرکی مانگ اور مثال دینے پر خاک

    بندہ نشکبید ز تصویرِ خوشت

    ہر دمے گوید کہ جانم مفرشت

    تیرے حسین تصور پر بندہ صبر نہیں کر سکتا ہے

    ہر لمحہ کہتا ہے کہ میری جان تیرا فرش ہو

    ہمچو آں چوپاں کہ می گفت اے خدا

    پیشِ چوپانِ محبت خود بیا

    اس گڈریے کی طرح جو کہہ رہا تھا اے خدا

    اپنے عاشق گدڑیے کے سامنے آ جا

    تا شپش جویم من از پیراہنت

    چارقت دوزم ببوسم دامنت

    تا کہ میں تیرے کپڑوں میں سے جوئیں پاؤں

    تیرا چپل سی دوں، تیرا دامن چوموں

    کس نبودش در ہوا و عشق جفت

    لیک قاصر بود از تسبیح و گفت

    محبت اور عشق میں کوئی اس جیسا نہ تھا

    لیکن تسبیح اور گفتگو میں کوتاہ تھا

    عشق او خرگاہ بر گردوں زدہ

    جاں سگِ خرگاہ، آں چوپاں شدہ

    ا س کے عشق نے آسمان پر خیمہ گاڑ دیا تھا

    جان اس گدڑیے کے خیمہ کا کتا بن گئی تھی

    چوں کہ بحرِ عشق یزداں جوش زد

    بردلِ او زد ترا بر گوش زد

    جب اللہ کے عشق کے سمندر نے جوش مارا

    اس کے دل سے ٹکڑایا، تیرے کان سے ٹکرایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے