مردہ بدم زندہ شدم گریہ بدم خندہ شدم
دولت عشق آمد و من دولت پایندہ شدم
میں مردہ تھا زندہ ہو گیا، رو رہا تھا ہنسنے لگا، عشق کی دولت ملی میں لازوال مال ہو گیا۔
گفت کہ دیوانہ نۂ لائق ایں خانہ نۂ
رفتم و دیوانہ شدم سلسلہ در زندہ شدم
اس نے کہا کہ تم دیوانے نہیں ہو تم اس گھر کے لائق نہیں ہو، میں چلا گیا اور دیوانہ بن گیا میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔
گفت کہ با بال و پری من پر و بالت ندہم
در ہوس بال و پرش بے پر و پرکندہ شدم
اس نے کہا کہ تمہارے پاس بال و پر ہے میں تمہیں بال و پر نہیں دوں گا، میں بال و پر کے ہوس میں بے پر اور پراگندہ ہو گیا۔
تابش جاں یافت دلم نور جہاں یافت دلم
اطلس جاں یافت دلم دشمن ایں ژندہ شدم
میرے دل کو جان کی روشنی اور دنیا کی روشنی ملی، میرے دل کو اطلس مل گیا میں ان پرانی چیزوں کا دشمن ہو گیا۔
صورت جاں وقت سحر لاف ہمیزد در نظر
بندہ و خر بندہ بدم شاہ خدا بندہ شدم
صبح کے وقت جان کی صورت دعویٰ کر رہی تھی کہ میں بندہ اور گدھے کا خدمت گار تھا اب میں خدا کا بندہ ہو گیا۔
از تو ام اے شہرہ قمر در من و در خود من نگر
کز اثر خندہ تو گلشن خندندہ شدم
اے چاند جیسی شہرت رکھنے والے، میرا وجود تم سے ہی ہے، میں تو تمہاری مسکراہٹ کی وجہ سے ہی لہلہاتا باغ ہو گیا ہوں۔
زہرہ بدم ماہ شدم چرخ دو صد آہ شدم
یوسف بودم اکنوں یوسف را بندہ شدم
میں زہرہ تھا میں چاند ہوگیا دو سو آہوں والا آسمان ہو گیا، میں یوسف تھا مگر اب یوسف کا بندہ ہو گیا۔
- کتاب : کلیات شمس تبریزی (Pg. 523)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.