Font by Mehr Nastaliq Web

شد شرر انگیز گر آہ غریباں غم مخور

قاضی مظاہر امام

شد شرر انگیز گر آہ غریباں غم مخور

قاضی مظاہر امام

MORE BYقاضی مظاہر امام

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، فارسی مصرعِ طرح „یوسف گم گشتہ باز آید ز کنعان غم مخور“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    شد شرر انگیز گر آہ غریباں غم مخور

    خود بسوزد جسم و جان درد منداں غم مخور

    گو دلت بیمار گشتہ از تپ رنج فراق

    آں مسیحایم شود یک روز مہماں غم مخور

    در فراق شعلہ رو گر شد فزوں داغ دلت

    انطفایش خواہ زآب چشم گریاں غم مخور

    شمع تربت را اگر باد صبا خاموش کرد

    داغہائے دل شدہ رشک چراغاں غم مخور

    مصحف رویت اگر بوسیدہ ام در اضطراب

    ای بتک من کردہ تعظیم قرآں غم مخور

    بخل کے سازد بدرماں آنکہ دل بخشید و درد

    سیداؔ مضطر مشو از بہر درماں غم مخور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے