رساں یا رب بسرکار مدینہ
رساں یا رب بسرکار مدینہ
فدا گردم بدربار مدینہ
اے خدا مجھے مدینے کے سرکار کے پاس پہنچا
میں مدینے کے دربار میں خود کو فدا کردوں گا۔
مدینہ رشک فردوس بریں است
کشم بر سر چو گل خار مدینہ
مدینہ فردوس بریں کے لئے بھی باعث رشک ہے
میں مدینے کے کانٹوں کو پھول کی طرح اپنے سر پر اٹھالوں گا۔
خوشا روزے کہ چوں بلبل نمایم
نوا سنجی بہ گلزار مدینہ
وہ کیا ہی اچھا دن ہوگا جب میں بلبل ک طرح
گلزار مدینہ میں نواسنجی کروں گا۔
نمی گویم رساں یا رب بہ جنت
مگر ہستم طلب گار مدینہ
میں یہ نہیں کہتا کہ اے خدا مجھے جنت میں پہنچا دے
البتہ میں مدینے کا طلبگار ضرور ہوں۔
مسیحا آید از بہر عبادت
کسے گر ہست بیمار مدینہ
اگر کوئی مدینے کا بیمار ہو تو
مسیحا عیادت کےلئے آجا تا ہے۔
شوم چوں بردۂ خود را فروشم
رسم گر سوئے بازار مدینہ
میں غلا م بن کر خود کو فروخت کر ڈالوں
اگر میں بازار مدینہ میں پہنچ جاؤں۔
رسد پیہم ملک زیر لوایش
بر افرازد چو سالار مدینہ
فرشتے مسلسل اس کے علم کے نیچے آتے چلے جاتے ہیں
جب مدینے کا سردار علم بلند کرتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.