فرخنده منزلے کہ درو کردهِ مقام
فرخنده منزلے کہ درو کردهِ مقام
خوش وادیِ کہ سود بہ سم بزاق تو
وہ منزل کتنی مبارک ہے کہ جس میں آپ نے قیام فرمایا ہے، وہ وادی کتنی عمدہ ہے جس میں آپ کے براق کے سموں کے نشانات جمے۔
جانم فدائے دیدہ کہ روئے تو دیده است
قربانِ پا شوم، کہ بکوئت رسیده است
میری جان اُن آنکھوں پر قربان جنہوں نے آپ کے رخِ مقدس کی زیارت کی، میں ان پاؤں پہ قربان جو تیرے کوچے میں پہنچے۔
منم و ہمیں تمنا کہ بوقتِ جاں سپردن
یہ رخِ تو دیده باشم، تو درونِ دیده باشی
میں ہوں اور میری یہ تمنا ہے کہ اپنی جان قربان کرتے وقت میں تیرے سامنے آنکھیں بن جاؤں اور تو اِن آنکھوں میں سما جائے۔
مبارک منزلے کا آں خانہ راما ہے چنیں باشد
ہمایوں کشورے کاں عرصہ را شاہے چنیں باشد
وہ منزل کتنی مبارک ہے کہ اس میں ایسے محبوب کا قیام ہو اور وہ سلطنت کتنی خوش بخت ہے کہ اس میں ایک عرصہ ایسا شہنشاہ رہا ہو۔
اگر خیریتِ دنیا و عقبیٰ آرزو داری
بدرگاہش بیا و ہر چہ می خواہی، تمنا کن
اگر تو دنیا اور آخرت میں خیریت کی آرزو رکھتا ہے تو اس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اور جو چاہے مانگ۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.