Font by Mehr Nastaliq Web

فرخنده منزلے کہ درو کردهِ مقام

رونق بدایونی

فرخنده منزلے کہ درو کردهِ مقام

رونق بدایونی

MORE BYرونق بدایونی

    فرخنده منزلے کہ درو کردهِ مقام

    خوش وادیِ کہ سود بہ سم بزاق تو

    وہ منزل کتنی مبارک ہے کہ جس میں آپ نے قیام فرمایا ہے، وہ وادی کتنی عمدہ ہے جس میں آپ کے براق کے سموں کے نشانات جمے۔

    جانم فدائے دیدہ کہ روئے تو دیده است

    قربانِ پا شوم، کہ بکوئت رسیده است

    میری جان اُن آنکھوں پر قربان جنہوں نے آپ کے رخِ مقدس کی زیارت کی، میں ان پاؤں پہ قربان جو تیرے کوچے میں پہنچے۔

    منم و ہمیں تمنا کہ بوقتِ جاں سپردن

    یہ رخِ تو دیده باشم، تو درونِ دیده باشی

    میں ہوں اور میری یہ تمنا ہے کہ اپنی جان قربان کرتے وقت میں تیرے سامنے آنکھیں بن جاؤں اور تو اِن آنکھوں میں سما جائے۔

    مبارک منزلے کا آں خانہ راما ہے چنیں باشد

    ہمایوں کشورے کاں عرصہ را شاہے چنیں باشد

    وہ منزل کتنی مبارک ہے کہ اس میں ایسے محبوب کا قیام ہو اور وہ سلطنت کتنی خوش بخت ہے کہ اس میں ایک عرصہ ایسا شہنشاہ رہا ہو۔

    اگر خیریتِ دنیا و عقبیٰ آرزو داری

    بدرگاہش بیا و ہر چہ می خواہی، تمنا کن

    اگر تو دنیا اور آخرت میں خیریت کی آرزو رکھتا ہے تو اس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اور جو چاہے مانگ۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے