طور سینا گشت موسیٰ را مقام
طور سینا گشت موسیٰ را مقام
بی حجاب آنجا شنیدی خود کلام
ترجمہ : حضرت موسیٰ کے لیے طور سینا قرب کا مقام بنا تو بھی اگر ایسا مقام تلاش کرلے تو وہاں تو بھی بغیر کسی پردہ کے خود اللہ تعالیٰ کا کلام سنے۔
عاشقی را طور معراجِ دل ست
ہر زماں از حق رسد او را سلام
ایک عاشق کے لیے طور کا مقام معراجِ دل کو حاصل ہے دل کے طور پر ہر لمحہ حق تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچتا ہے۔
دل کہ انسان ست عرش اللہ بداں
از حدیثِ حضرت آمد ایں کلام
دل جو کہ باطن میں آنکھ کی پتلی ہے اسے اللہ تعالیٰ کا عرش جانو، حضرت رسول اللہ کی حدیث مبارک سے یہ بات اخذ ہوئی ہے۔
ایں دل انساں بیضۂ ناسوتی شمر
لیک در وی سرِ لاہوتی تمام
تو اس انسانی دل کو ناسوتی یا خاکی تخم سمجھ لے لیکن اس میں تمام عالم لاھوت کا راز سمایا ہوا ہے۔
ذات انساں عین سراللہ بداں
ہاں شنو گفتم ترا مجمل کلام
انسان کی حقیقت کو مطلقاً اللہ تعالیٰ کا راز جانو آگاہ ہو جاؤ سن لو میں نے تمام بات اجمالاً تجھے کہہ دی ہے۔
یار انساں مخزنِ خاصہ خداست
غیر عارف کس نداند والسلام
اے دوست! انسان خدا تعالیٰ کا خاص مخزن راز ہے صاحبِ معرفت کے بغیر کوئی شخص اسے نہیں سمجھ پاتا اور تم پر سلامتی ہو۔
- کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 129)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.