آمد خیالی در دلم خرقہ را برہم زنم
آمد خیالی در دلم خرقہ را برہم زنم
تسبیح را ویراں کنم سجادہ را برہم زنم
ترجمہ : میرے دل میں ایک خیال آیا کہ اس گدڑی کو پھینک دوں، تسبیح کو توڑ ڈالوں اور مصلیٰ کو الٹ پلٹ دوں۔
چوب عصا برہم زنم دلقِ صفا پارہ کنم
فارغ زخود بینی شوم ایں خانہ را برہم زنم
دستی لاٹھی کو پھینک دوں پاکیزگی کی گدڑی کے ٹکڑے کر ڈالوں خود پسند سے کنارہ کر لوں اس گھر کو ویران کر دوں۔
من خویش را صحرا برم خود راز خود فارغ کنم
از بہرِ ایں خوں را خورم کیں نفس را گردن زنم
میں اپنے آپ ویرانے کو چلا جاؤں اپنے آپ سے فارغ ہو جاؤں میں اسی لیے اپنا خونِ جگر پی رہا ہوں کہ اس نفس امارہ کو ختم کر دوں۔
جامی زخمخانہ برم آں را یقین من میخورم
فارغ ز دنیا دیں شوم آتش بایں عالم زنم
میں شراب خانہ سے ایک جام لے جاؤں اور اسے پورے یقین کے ساتھ پی لوں دین اور دنیا کے انعامات سے مستغنی ہو جاؤں اور اس دنیا کی ہوس کو آگ لگا دوں۔
با دوست خود مفتوں شوم امروز چوں مجنوں شوم
تنہا بہ ہاموں می روم با بیخودی دم ہم زنم
اپنے محبوب کا شیفتہ ہو کر میں آج مجنوں کی طرح ہو جاؤں اکیلے ہی جنگل کو نکل جاؤں اور بیخودی میں مستغرق ہو جاؤں۔
چوں خود نمائی در منم طاقت نیارد ایں دلم
بیمار جاں با تن شدم با کوس رحلت ہم زنم
اگر مجھ میں خود نمائی ہو تو اس دل میں قوت نہیں رہتی روح اور جسم کو علیل پا کر اس دنیا سے کوچ کرنے کا نقارہ بجاتا ہوں۔
بایار بایاری شدم پئے دوست دلداری روم
زیں جا زتن تنہا روم ہا ھوی غوغا ہم زنم
میں نے دوست کے ساتھ نباہ کر لی اس غمخوار محبوب کے حضور چل پڑا ہوں اس دنیا سے اکیلا نکلا ہوں الوداع کا شور و غوغا کر رہا ہوں۔
- کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 42)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.