از ذاتِ حق تعالیٰ اعلام بے نوا را
از ذاتِ حق تعالیٰ اعلام بے نوا را
’’گر عاشقِ تو مائی کن ترک ماسویٰ را
ترجمہ : اس فقیر کو حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوا، اکر تو ہمارا عاشق ہے تو ماسوا اللہ کو ترک کر دے۔
ما ذاتِ ذوالجلالیم و از کبریا کمالیم
ماشاہِ با عطائیم از ما بجو تو مارا
ہم عزت اور عظمت کی بڑائی والی ذات پاک ہیں، ہم بخشش کرنے والے بادشاہ ہیں تو ہماری عطا میں سے ہم کو تلاش کر۔
من ذاتِ بے نشانم فارغ زاین و آنم
کس راغمی ندارم غمخوار باش مارا
میں بے نشان ذات ہوں اسباب سے منزہ ہوں، مجھے کوئی غم نہیں تو ہمارا دوست ہوجا۔
من با تو مہر بانم بس شوق با تو دارم
ذوقِ دگر ندارم جز قرب تو گدا را
میں تجھ پر مہربان ہوں تجھ سے بہت رغبت تعلق فرماتا ہوں، تجھ جیسے فقیر کو اپنا قرب عطا فرمانے کے بغیر مجھے کسی اور چیز کی نشاط نہیں ہے۔
گر شوقِ وصل داری باما بکن تو زاری
جز ما مجو تو یاری خود یار باش مارا
اگر تو ہمارے وصال کا شوق رکھتا ہے تو ہماری بارگاہ میں زاری کر، ہمارے بغیر تو کسی کی دوستی اختیار نہ کر تو ہمارا ہی دوست بن جا۔
- کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 50)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.