من من مگو تو من من ہی ھوی گوئی ہا ہا
من من مگو تو من من ہی ھوی گوئی ہا ہا
ہا ہا و ہائے ہی ہی ھو ہائے ہائے ہا ہا
ترجمہ : تو انانیت کے کلمات ’’میں‘‘ نہ کہہ بلکہ تو درد و تاسف کے کلمات ہائے ہوئے ہا بول، ہماری اصل کیفیت حال اسی ہا ہائے اور ہوئے پر مشتمل ہے۔
اسرار کس نداند ایں ہائے ہوئے ہی را
واقف کسی نگردد ہی ہوئے ہائے ہا ہا
ان درد آمیز کیفیات کے اسرار کوئی نہیں جانتا ان درد انگیز کلمات سے کوئی واقف نہیں بنتا۔
شوقِ دلم نداند ہی ہی چہ چارہ سازم
از خود چرا براندی ہی ہوئے ہائے ہا ہا
وہ میرے دل کی لگن کو نہیں جانتا ہائے افسوس میں کیا تدبیر کروں بہشت بریں سے نکال کر اپنے سے کیوں دور کر دیا ہے ہائے افسوس۔
دانی تو دردِ دل را جز تو کسی نداند
جز تو بکس نگویم ہی ہوئے ہائے ہا ہا
تو دردِ دل سے واقف ہے اور تیرے بغیر کوئی نہیں جانتا اسی لیے ہائے افسوس میں تیرے بغیر کسی سے حالِ دل بیان نہیں کرتا۔
یاری غزل بخواند حالش دگر نہ داند
لیکن ز در براندی ہی ہوئے ہائے ہا ہا
دوست میری غزل پڑھتا ہے مزید کیفیت حال سے واقف نہیں لیکن ہائے افسوس بڑا المیہ تو یہ ہے کہ اپنے در اقدس سے دور کر دیا ہے۔
- کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 91)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.