Sufi Quotes of Makhdoom Shah Meena
شیخ کا دل صیقل شدہ آئینے کی طرح ہے، اس پر خدا کا فیض اترتا رہتا ہے، وہ ذات، صفات، اسما اور افعال کی تجلیات سے متجلی ہوتا ہے اور اس طرح شیخ ہر لمحہ غیبی لطائف سے آراستہ ہوتا رہتا ہے، جب مرید صادق مکمل ارادت کے ساتھ اپنے دل کوایسے آئینے کے سامنے لاتا ہے تو شیخ کا دل مریدکے دل پر عکس تجلی ڈالتا ہے اور تمام کمالات بغیر کسی کسب اور محنت و مشقت کے اس مرید کے دل میں اتر جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ اس کا دل غیر یت کی کدورت سے پاک اور طبیعت کے زنگ سے صاف ہو۔
مرید کو چاہیے کہ غیر کو اپنی نظر میں نہ لائے اور مخلوق کی مدح و ذم سے اپنے آپ کو بے نیاز کر لے، جو بھی عمل کرے اچھی نیت اور صدق و اخلاص کے ساتھ کرے، لوگوں کی باتوں سے اپنے آپ کو پراگندہ خاطر نہ کرے اور ان کے نیک و بد کہنے کی پروا نہ کرے، کیوں کہ لوگوں کی زبان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔
اگر کسی کو دیکھو کہ وہ پانی پر چلتا ہے، ہوا میں اڑتا ہے اور اس کے ساتھ وہ حدودِ شریعت کی پامالی اور ان میں کوتاہی کرتا ہے تو جان لو کہ وہ جادوگر، جھوٹا، گم راہ اور گم راہ گر ہے۔
مرید کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ شیخ کی باتوں کے انتظار میں دل سے حاضر رہے تاکہ شیخ کے کلام کے فوائد و منافع سے محروم نہ رہے۔
جو تارک فرائض و سنن ہے اگر وہ ہوا پر اڑے اور پانی پر چلے تو یہ محض شعبدہ اور بازی گری ہے کرامت نہیں۔
حرص و ہوا کا بندہ ’’خدا پرست‘‘ نہیں ’’خود پرست‘‘ ہے، خود پرستی کا خدا پرستی کی راہ میں گذر نہیں۔
تصوف نام ہے ’’باطن‘‘ میں دل کی پاکی اور صفائی کا اور ظاہر میں ’’حسن خلق‘‘ کا جس کا معاملات میں مظاہرہ ہوتا ہے۔
جب خدا اپنے بندے سے کسی وقت غافل نہیں، پھر بندہ اپنے مالکِ حقیقی سے کیوں غافل رہے یعنی انسان کو لازم ہے کہ خدا کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولے۔
انسان کو جو چیز جتنی زیادہ عزیز ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ وہ اس کی نگہداشت و حفاظت کرتا ہے۔
صحبت کا اثر ناگزیر ہے، اس سے آدمی مالا مال نہال ہوتا ہے اور خراب و خستہ حال بھی، لہٰذا اس سے جلد بھاگنا چاہیے، اچھی صحبت نیک و صالح لوگوں کی دیر اثر ہے، پس ان کی صحبت زیادہ رکھنی چاہیے تاکہ وہ اثر پذیر اور مستحکم ہو۔
انسان کی بڑائی زمانہ کی موافقت اور اس کے مرتبت کی سازگاری پر نہیں بلکہ اس کے تقویٰ پر موقوف ہے۔
صالح اور متقی لوگوں کو منجانب اللہ ایک ایسے علم کی توفیق رفیق عطا ہوتی ہے، جس سے بلا معلم بہت سی باتوں کا علم انہیں ہو جاتا ہے۔
توکل نام ہے صبر و قناعت کا جسے یہ دولت ملی وہ ملک و خزانہ سب سے مستغنی ہوگیا۔
جو سوچ سمجھ کر کماتا کھاتا ہے، خدا نام اس کا صدیقوں کی فہرست میں داخل کرتا ہے اور وہ صدیق کہلاتا ہے۔
صحیح ایثار والے وہ لوگ ہیں جو اس میں اپنے پرائے، آشنا، غیر آشنا کا فرق نہیں کرتے۔
دوست کے نظارہ کے لیے سب کچھ کرنا بھلا معلوم ہوتا ہے، آلام بھی مزہ دیتے ہیں۔
نفس کی رعونت سب خود پرستی ہے، جب تک اس سے چھٹکارا نہ ہو ’’خدا پرستی‘‘ کہاں ممکن ہے۔
دونوں جہاں کے نیک بخت وہ لوگ ہیں جو دنیائے فانی کو آخرت کی کھیتی سمجھتے ہیں، اس عالم میں کارِ خیر کرنے اور احکامِ خداوندی بجا لاتے ہیں اور اس عالم میں اپنے اعمالِ نیک کا ثمرہ پاتے ہیں۔
خدا سے غافل رہنا تمامی بدبختی کی جڑ ہے، کیوں کہ ایسا مرد غافل اپنی بہت سی آرزوؤں اور اس کے غم میں مبتلا رہتا ہے، یہ مکر شیطانی ہے جن میں شیطان لعین ان غافلوں کو پھانس کر دھوکا دیتا ہے۔
جو شریعت کا پورے طور پر پابند اور امورِ شرعیہ کے بجالانے میں پامرد ہو وہی شیخ شامل اور قطبِ کامل ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere